ابھی تو بچہ ہے

چند دن پہلے فیس بک لسٹ میں موجود ایک دوست کا اسکے جواں سال دوست کی وفات پر اسٹیٹس پڑھا کہ یا خدا میرے دوست کے گناہوں کو بچپنا سمجھ کر معاف کر دینا۔ دو منٹ کیلیے وہیں رک گئی۔
خدا مرحوم کو جوار رحمت میں جگہ دے اور اُس رحیم کی ذات سے رحمت کی امید نہ رکھنا تو کفر ہے لیکن کیا اب ہم گناہوں سے معافی انہیں اپنا بچپنا کہہ کر مانگیں گے؟
کیا کبھی کسی نے سوچا ہے کہ ہم میں سے اکثر لوگ بڑھاپے کی عمر کو پہنچ کر خوفزدہ کیوں ہو جاتے ہیں؟
اور تب کیوں خود کو بدلنے کی کوشش کرتے ہیں۔ دل میں خوفِ خدا یا خود کو بدلنے کی ضرورت آخیر عمر میں پہنچ کر ہی کیوں محسوس ہوتی ہے۔ ہم پہلے کیوں نہیں سدھر جاتے؟ ہمیں اسوقت کیوں احساس نہیں ہوتا جب نوجوانی کی مستی اور طاقت ہم پر غالب ہوتی ہے؟
اسکی بہت ساری وجوہات ہیں لیکن چند چھوٹی چھوٹی باتیں جو عمارت کیلیے اینٹ کا کام کرتی ہیں ان پر دھیان ضروری ہے۔ ہمیں احساس ہی نہیں ہوتا کہ ہمارا لاشعور کس طرح ان باتوں کو لے ہماری شخصیت پر اثر انداز ہوتا ہے۔
آپ نے اکثر یہ جملے سنے ہوں گے۔ ۔ “ابھی تو بچہ ہے ”
یہ جملہ ہم بہت سی جگہوں پر مختلف طریقے سے استعمال کے ساتھ سنتے ہیں۔ نوکری ہو یا شادی بیاہ کا معاملہ, کوئی غلطی ہو جائے یا کسی ذمہ داری کی دستک ہم اکثر یہ کہہ کر جان چھڑا لیتے ہیں کہ “ابھی عمر ہی کیا ہے۔ابھی تو بچہ ہے”
کیا ہم کبھی اپنے بچوں کو سکھاتے ہیں کہ بیٹا عمر کا کوئی بھروسہ نہیں۔ تمہیں کبھی بھی موت آ سکتی ہے؟ نہیں ہرگز نہیں۔ بلکہ زیادہ تر لوگوں کے نزدیک یہ ایک ظالمانہ جملہ ہے۔ موت ہمارے لیے تبھی اہم ہوتی ہے جب ہمیں اس سے فرار کی راہ نہیں نظر آتی۔ حالانکہ موت کیلیے تو ایک اٹھارہ سال کے نوجوان کو بھی اتنا ہی تیار رہنا چاہیے جتنا کسی ستر اسی سالہ آدمی کو۔
ہم کبھی اپنے بچوں کو نہیں سکھاتے کہ موت برحق ہے اور کسی بھی لمحے پر ہمارا اختیار نہیں۔ ہمیں خود کو ہر وقت تیار رکھنا ہے۔
ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے نوجوانوں کو زندگی کی قدر اور موت کی قیمت سکھائیں۔ ہم اعتدال میں زندگی نہیں گزار پاتے کیونکہ ہم یک طرفہ راستے کا انتخاب کرتے ہیں۔ ۔ زندگی۔ ۔ جس کا انجام ہماری مرضی کے خلاف موت پر جا ٹھہرتا ہے۔ ۔ اور موت کے بارے میں تو ہمیں سوچنا بھی گورا نہیں۔ ۔
اسی بچپنے میں ہم جوانی گزار دیتے ہیں اور زندگی کی مہربانی سے بڑھاپے تک پہنچنے کی نوبت آ جائے تب ہمیں احساس ہوتا ہے کہ اب کوئی راہِ فرار نہیں۔
اور ہم وہ سب پانے اور دینے کی کوشش کرتے ہیں جو وقت کی گرد میں کہیں پیچھے چھوٹ گیا۔
یاد رہے کہ بالغ ہونے کے بعد ایک لمحے کے لیے بھی ہم بچے نہیں ہیں۔ ہماری ہر غلطی غلطی ہی ہے۔ ہمارا گناہ گناہ ہی مانا جایے گا۔ ان سب کی معافی ممکن ہو گی مگر ضروری نہیں کہ تلافی بھی ویسے ہی ممکن ہو سکے۔ موت برحق ہے اور اپنی نیکیاں بڑھاپے کیلیے سنبھال کر مت رکھیں۔
لیکن ۔
لیکن پھر بھی اگر کوئی صراطِ مستقیم کو چن لے تو نوجوان ہو یا بزرگ ایسے کلمات کہنے کی بجائے کہ “نو سو چوہے کھا کر بلی حج کو چلی” یا “بڈھے وارے اینوں یاد آئی” کی بجائے انکی اور اپنی ہدایت کی دعا کریں کہ وہ قائم اور ثابت قدم رہیں اور آپ کو نصیب ہو جائے۔
15726934_10154842024422152_3090296447359758640_n
Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

w

Connecting to %s