گھونسلہ

افسانہ نمبر 24
عنوان ۔۔۔ گھونسلہ
افسانہ نگار ۔۔۔ فاطمہ عمران (لاہور ۔۔ پاکستان)
بینر ۔۔۔ وحیداخترواحد

بہو بیگم کے کمرے کی کھڑکی گھر کے پچھلے صحن کی طرف کھلتی تھی جہاں صحن کے بیچ و بیچ بیری کا قدیم پیڑ کسی پرانی یاد کی طرح سر اٹھائے کھڑا تھا۔ جب سے بہو بیگم بیاہ کر اس گھر میں آئی تھیں انہوں نے اس پیڑ سے دوستی سی کر لی تھی۔جب بھی فارغ ہوتیں کھڑکی میں بیٹھ کر اس پیڑ کو دیکھتے ہوئے سوچوں میں گم ہو جاتیں۔یوں اس پیڑ اور بہو بیگم کی بے لگام سوچوں کے درمیان ایک تعلق سا قائم ہو گیا تھا۔نظر پیڑ پر رہتی اور دماغ کسی اور نگری کی سیر میں گم رہتا۔
گھر میں بہو بیگم کے علاوہ ‘وہ’، اماں بی ، ابا میاں ، ایک پرانی نوکرانی آنا بیگم اور چند ملازم تھے جنہیں آنا بیگم ہی دیکھتی تھیں۔ چھوٹے صاحب اکلوتی اولاد ہونے کی وجہ سے اماں بی کے کافی لاڈلے تھے۔ جب سے بہو بیگم بیاہ کر گھر آئیں تھیں اماں بی کو ان سے نجانے کیوں خدا واسطے کا بیر ہو گیا تھا۔یہ تو بعد میں عقدہ کھلا کہ بیٹے کی شراکت داری انکو ایک آنکھ نہ بھاتی تھی۔رسم دنیا سے مجبور تھیں جو بیٹا بیانا پڑا۔ورنہ بہو بیگم تو انکی آنکھوں میں بال کی طرح کھٹکتی تھیں۔ انکی چڑ بہو بیگم سے کچھ ڈھکی چھپی نہ تھی۔ایک دو بار دبے الفاظ میں بہو بیگم نے سمجھانا بھی چاہا کہ وہ انکے بیٹے پر “قبضہ” کرنے نہیں آئیں۔انکا بیٹا بہو بیگم کا شوہر بھی ہے۔اور وہ یہاں اپنے شوہر کے پاس آئیں ہیں نہ کہ اماں بی کے’ بیٹے’میں شراکت داری کرنے۔لیکن اماں بی کسی طور مطمئن نہ ہوئیں اور ایک دن تو صاف صاف مانو اعتراف ہی کر لیا کہ “بہو بیگم غور سے سن لو۔تم اس گھر میں ہمارے بیٹے کے ساتھ آئی ہو اور اس سے آگے ہرگز امید نہ رکھنا کہ ہم تمہیں اپنے دل میں جگہ دیں گے” اس صاف گوئی پر بہو بیگم حیران ہونے کے ساتھ ساتھ غمزدہ بھی ہو گیئں۔بھلا کیسے سمجھائیں وہ اماں بی کو کہ جیسے وہ ابا میاں پر اپنا حق جتاتی ہیں۔ویسے ہی بہو بیگم کا بھی اپنے شوہر پر کچھ حق ہے۔ بھلا انکا شوہر ہونا انکے بیٹے ہونے کا حق کیسے چھین سکتا ہے؟ لیکن شاید اماں بی سمجھنا ہی نہیں چاہتی تھیں۔ اس اعتراف کے بعد تو گویا انہوں نے بہو بیگم سے باقاعدہ “دشمنی” پال لی۔آتے جاتے اٹھتے بیٹھتے بہو بیگم کو نیچا دکھانے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہ جانے دیتیں۔چھوٹی چھوٹی باتوں پر بہو بیگم کا کلیجہ چھلنی کیے رکھتیں۔ بہو بیگم کی کوشش ہوتی کہ جلد از جلد کام ختم کے کر کمرے کی راہ لیں جہاں کھڑکی کے پار بیری کا پیڑ انکا منتظر ہوتا۔اب انہوں نے اس پیڑ سے رشتہ سا استوار کر لیا تھا۔
ایک دن کیا دیکھتی ہیں کہ پیڑ کے بیچ و بیچ بل کھاتی شاخوں کے درمیان چڑیوں کا گھونسلہ جھول رہا ہے۔ خود کو باقاعدہ سرزنش کی کہ یہ گھونسلہ کب یہاں آیا اور انہوں نے پہلے کیوں نہ دھیان دیا۔؟ بس پھر تو بہو بیگم کو ایک نیا کھیل ہاتھ آ گیا۔ دل چڑیا چڑے میں بسا لیا۔ چڑیا کب شور مچاتی ہے؟کب نخرہ دکھاتی ہے؟ چڑا کب اس سے ناراض ہوتا ہے کب پیار جتاتا ہے؟ بہو بیگم کے پاس انکا سارا حساب تھا۔ ایک دن جو چڑیا ناراض ہو کر نخرہ دکھانے پر آئی تو چڑے نے اسکے اردگرد منڈلا منڈلا کر ایسے شورمچایا جیسے معافی مانگ رہا ہو کہ اس بار معاف کر دو آئندہ ایسا نہیں ہو گا۔بہو بیگم کافی دیر تک یہ منظر دیکھ کر ہنستی رہیں۔
شادی کو آٹھ ماہ ہونے کو آئے لیکن بہو بیگم کی گود ابھی بھی سونی تھی۔اماں بی کو ایک نیا بہانہ مل گیا نیچا دکھانے کو۔ سارا دن وارث کی رٹ لگائے رکھتی تھیں۔ کبھی کسی بہانے سے بہو کو کہہ دیتیں اور کبھی بہو کے سامنے آنا بیگم کے آگے تذکرہ لے کر بیٹھ جاتیں کہ جانےکب انہیں پوتے کا منہ دیکھنا نصیب ہو گا؟ ایک سال بھی نہ ہوا تھا اور بہو بیگم پر بانجھ ہونے کا ٹھپہ لگا دیا حالانکہ ڈاکٹرنی نے کہا بھی تھا کہ بس خدا ہی کیطرف سے دیر تھی۔ورنہ بہو بیگم تو بالکل ٹھیک تھیں۔
بہو بیگم اماں بی کے آگے کر بھی کیا سکتی تھیں؟ اکیلے میں چھپ چھپ کر رو لیتی تھیں۔ نماز میں گڑگڑا کر دعائیں مانگتیں یا پھر خریداری کے بہانے مزاروں کے چکر لگاتیں۔ وہاں کبھی چڑھاوے چڑھاتیں اور کبھی دھاگے باندھ آتیں. پھر بھی مراد بر نہ آتی تو رو رو کر خدا سے معافی مانگتیں کہ اگر ان سے جانے انجانے میں کوئی غلطی ہو گئی ہے تو خدا انہیں معاف کر دے اور انکی سونی گود بھر دے۔
اماں بی کی نفرت کو تو ٹھوس وجہ مل گئی ۔ بے اولاد عورت کٹے تنکے کی مانند ہوتی ہے۔جانے کب ہوا کا جھونکا اڑا کر لے جائے۔ سسرال میں عورت کے قدم جمانے کے لیے پہلی مضبوط جڑ اسکی اولاد ہوتی ہے۔ اور بہو بیگم کے پاس سب کچھ تھا بس ایک اولاد ہی نہ تھی جو بہو بیگم کے لیے اماں بی کی نفرت شاید کچھ کم کر سکتی۔
ایک دن آنا بیگم نے جانے اماں بی کے کان میں کیا کھسر پھسر کی کہ مارے خوشی کے اماں بی سنبھالی ہی نہ جا رہی تھیں۔ رات کو بہو بیگم دودھ کا گلاس کمرے میں دینے گئیں تو اماں بی ناک نکوس کر بولیں۔ “یہ دودھ کا گلاس تو تم میری بہو کے لیے سنبھال کر رکھو جو مجھے پوتے کا منہ دکھائے گی۔میرا بیٹا اب دوسری شادی کرے گا۔ اب وہ تم جیسی بانجھ عورت کے پلو سے لگ کر نہیں بیٹھے گا۔” بہو بیگم کے ضبط کے سارے موتی ٹوٹ ٹوٹ کر بکھرنے لگے اور وہ اماں بی کے قدموں میں بیٹھ کر رو دیں۔اماں بی منہ پھیر کر بولیں۔ “جس دن تم نے اس گھر کی دہلیز پار کر کے میرے بیٹے کے دل میں پہلا قدم رکھا تھا اس دن میں نے تمہیں اپنے دل سے نکال باہر کر کے کوسوں دور پھینک دیا۔میں اچھے سے جانتی ہوں کہ میرا بیٹا تم سے محبت کر بیٹھا تھا۔لیکن اب نہیں۔ اب اسکی آنکھوں سے پٹی اتر چکی ہے۔خود ایک سوکھی عورت بھلا میرے بیٹے کی زندگی کیسے شاداب کرے گی۔؟اب وہ تمہارا نہیں رہے گا۔کان کھول کر سن لو اب وہ تمہارے دام میں نہیں آنے والا۔آنا بیگم نے اپنے کانوں سے سنا ہے۔”
اماں بی کو یہ سب کہتے احساس بھی نہ تھا کہ انہوں نے بہو بیگم کی دنیا ایک لمحے میں پلٹ دی تھی اور انکی بات سن کر وہ کیسے ایک درد بھری قیامت سے گزر گئیں۔
دوڑی دوڑی آنا بیگم کے پاس پہنچی اور انکے قدموں میں گر کر انہیں ایک عورت اور ماں ہونے کا واسطہ دے کرمنتیں کرنے لگیں کہ انہیں سچ سچ بتائیں کہ اماں بی نے جو کہا وہ سچ تھا کیا؟ انہوں نے کیا سنا ؟آنا بیگم نے اٹھا کر گلے سے لگا لیا اور بولیں “ہاں بہو رانی ۔ ۔ سچ کہا انہوں نے۔میں نے چھوٹے صاحب کو اپنے کانوں سے کہتے سنا ہے۔وہ ابا میاں کو کہہ رہے تھے کہ نئی دلہن کے آنے سے گھر میں ہنگامہ نہ ہو جائے کہیں ۔اور ابا میاں انہیں تسلی دے رہے تھے کہ بس وہ تیاری کریں۔صفر کا مہینہ ختم ہوتے ہی نئی دلہن گھر آ جائے گی۔اور گھر میں سب کو وہ خود دیکھ لیں گے”
بہو بیگم الٹے قدموں کمرے کی طرف بھاگیں۔آنسو تھے کہ تھمنے کا نام ہی نہ لے رہے تھے۔ دل کسی طور قرار نہ پا رہا تھا۔ یہ کیا ہو گیا؟ انکی دنیا انکی آنکھوں کے سامنے لٹنے چلی ہے اور وہ کچھ بھی نہیں کر سکتیں۔ کافی دیر بعد بھی جب دل ہلکا نہ ہوا تو کھڑکی کے سامنے آ کر کھڑی ہو گئیں۔ چڑیا نے انڈے دے دیے تھے اور چڑا اس کے اردگرد منڈلا رہا تھا۔جیسے اسکی رکھوالی کر رہا ہو۔ بہو بیگم کو لگا جیسے چڑیا کی آنکھوں میں فخر و غرور کا احساس اتر آیا ہو۔ماں بننے کی خوشی میں اترانے کا احساس شاید ہر مادہ میں خدا نے ایسے ہی رکھا ہے۔ یا پھر بہو رانی کا وہم تھا۔بہو بیگم پھوٹ پھوٹ کر پھر سے رو دیں۔ اپنی کم مائیگی کا احساس ہونے لگا۔ خدا سے شکایت کرنے لگیں کہ اب تو اس چڑیا کا آنگن بھی بھرنے جا رہا ۔صرف وہی ہیں جن کی گود ابھی تک سونی ہے۔کاش وہ یہ چڑیا ہی ہوتیں۔
بہو بہگم اب بہانے بہانے سے چھوٹے صاحب کے آگے پیچھے منڈلاتی تھیں۔ انکو رجھانے کا ہر ممکن حربہ آزماتیں کہ شاید کسی لمحے کی محبت میں گرفتار ہو کر وہ اپنا فیصلہ بدل دیں لیکن پوچھنے کی ہمت نہ کر سکیں کہ کس آسانی سے وہ انکا دل سوتن کے ہاتھوں انگاروں پر سینکانے چلے ہیں۔ انہیں کس نے یہ حق دیا ہے کہ آرام سے انکی دنیا الٹ کر کسی نئے ساتھی کے سنگ چلتے بنیں۔ ہر دفعہ ہمت کرنے لگتیں تو اپنے ‘،بانجھ’ ہونے کا خوف انہیں انکی ہار کا یقین دلا کر باز رکھتا کہ مبادا کہیں سرتاج نامی اس سائبان سے بھی نہ محروم ہو جائیں اس چکر میں۔ اس تمام عرصے میں چھوٹے صاحب یوں پیش آتے جیسے کچھ بات ہی نہ ہو۔ہر دفعہ رجھانے پر بہو بیگم کی زلفوں تلے بسیرا کرنے کو کھنچے چلے آتے۔
صفر ختم ہو چلا تھا اور بہو بیگم دن بدن زرد پڑتی جا رہی تھیں۔ ادھر چڑیا کے گھونسلے میں ننھے ننھے بچے چوں چوں کر کے صحن کی برسوں پرانی خاموشی میں دراڑ ڈالتے رہتے۔ بہو بیگم چڑیا سے باقاعدہ حسد میں مبتلا ہو چکی تھیں اور خدا سے شکایت کرتیں کہ اے خدا تو نے اس چڑیا کا گھونسلہ بھی اتنے ننھے ننھے بچوں سے بھر دیا اور میرے آنگن میں ایک بھی اولاد دینا تجھے گوراہ نہیں۔خدا بھی خاموش بیٹھا انکی دعاؤں کو آخرت میں اجر کے لیے جمع کر لیتا۔
کئی دنوں بعد آج چھوٹے صاحب کی تیاری دیکھنے لائق تھی۔صبح سویرے ہی تیار ہو کر چل دیے۔ بہو بیگم کو سینے پر ہلکا سا بوجھ محسوس ہوا۔ ایک درد جس سے انکی سانس رکی جا رہی تھی۔ لیکن وہ بے بس تھیں۔ مارے غم کے بہو بیگم کی طبعیت خراب ہو گئی۔ دروازے کے چکر لگا لگا کر ہلکان ہو گئیں ۔
ادھر اماں بی تھیں کہ انکی خوشی دیدنی تھی۔ گھر کا وارث دینے والی بہو جو آ رہی تھی۔اور بہو بیگم کا پتہ بھی کٹنے والا تھا۔ انکا بیٹا دو بیویوں میں الجھ کر صرف انکا ہو کر رہے گا۔ یہ احساس انہیں مارے خوشی کے قدم زمین پر نہیں ٹکانے دے رہا تھا۔سارے گھر میں اڑی پھر رہی تھیں۔ بہو بیگم اب کی بار جو لپکی دروازے کی طرف تو شدتِ غم سے نڈھال ہو کربے ہوش ہو گئیں۔آنا بیگم بہو کا دکھ سمجھ رہی تھیں لیکن کیا کر سکتی تھیں۔ تیس سال گزارنے کے بعد بھی تھیں تو وہ محض ایک نوکرانی ہی۔ بہو بیگم کو سنبھال کر اندر لائیں اور ڈاکٹرنی کا نمبر ملا دیا۔ ڈاکٹرنی نے آ کر بہو بیگم کو اچھے سے دیکھا اور انہیں وہ نوید سنائی جس کا انہیں شدت سے انتظار تھا۔ خبر سن کر بہو بیگم کے احساسات منجمد ہو گئے۔ انہیں سمجھ نہیں آئی کہ وہ اپنی قسمت پر خوش ہوں یا تقدیر کے لکھے اس وقت پر بین کریں۔ ایک دن بھی پہلے پتہ چل جاتا تو چھوٹے صاحب کے پاؤں میں بیڑی ڈال کر روک لیتیں۔ ۔ ۔ آنا بیگم بھی جہاں خوشی سے ڈاکٹر کو دیکھ رہی تھیں وہیں بہو بیگم کی قسمت پر افسوس بھی کر رہی تھیں کہ کاش یہ خوشی ان پر سوت لانے کا عذاب روک سکتی۔ ۔
آنا بیگم کا سہارا لے کر بہو اٹھی اور ڈاکٹرنی کو چھوڑنے باہر چلی۔ ہارن کی آواز سن کر بہو بیگم وہیں ساکت ہو گئیں۔ چند لمحوں بعد کیا دیکھتی ہیں کہ چھوٹے صاحب اندر چلے آ رہے ہیں۔انکے پیچھے گھونگھٹ میں منہ چھپائے ایک عورت تھی جس کو دیکھ کر بہو بیگم کے دل میں ایک ٹھیس سی اٹھی۔ اماں بی تیل کا کٹورا لے کر استقبال کے لیے نئی بہو کے قدموں میں ڈالنے کو دوڑیں۔اتنے میں ابا میاں دلہے طرح گلے میں ہار ڈالے اندر داخل ہوئے۔ اماں حیرت سے کچھ سمجھ نہ پائیں کہ ابا میاں آگے ہو کر بولے ‘کلثوم بیگم مجھے معاف کرنا۔ چھ ماہ پہلے مجھے رضیہ سے نکاح کرنا پڑا۔ انکے والد میرے بہترین دوست تھے۔ رضیہ بیگم کا پہلے بھی نکاح ہو چکا ہے لیکن تنازعہ کے باعث رخصتی سے پہلے ہی طلاق ہو گئی۔ انکے والد کو غم تھا کہ طلاق یافتہ عورت سے کون نکاح کرے گا سو آخری لمحات میں مجھے رضیہ کی ذمہ داری سونپ گئے۔میں نے نکاح کے بعد سب سے پہلے اپنے بیٹے کو اعتماد میں لیا۔اور اب تو رضیہ بیگم امید سے بھی ہیں۔سو انہیں خیال رکھنے کی لیے اس حویلی میں لے آئے ہیں ۔ویسے بھی تم ہی کہتی تھیں کہ حویلی کو ننھے وارث کی ضرورت ہے”
یہ سن کر اماں بی کے ہاتھ سے کٹورا چھوٹ کر گر گیا اور لڑھک کر نئی دلہن کے قدموں سے جا لگا۔ بہو بیگم جو ابھی تک حیرت سے یہ سب دیکھ رہی تھیں فورا زمین پر گرتی اماں بی کی جانب لپکیں جنکی حالت اس وقت ایک ایسی ننھی سی چڑیا کی مانند تھی جس کے پر ٹوٹ ٹوٹ کر گر رہے ہوں ۔ ۔13321888_1189596781100957_2000192287479994453_n

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

w

Connecting to %s