کثیف لبادہ

عالمی بزم افسانہ جولائی 2016
بزم یاران اردو ادب
افسانہ نمبر: 37
تحریر : فاطمہ عمران
بینر : خرم بقا
” کثیف لبادہ ”
چمچماتی گاڑی رکی اور کالے شیشے کے نیچے اترتے ہی ایک پری چہرہ کا دیدار ہوا۔ حیرت انگیز بات یہ تھی کہ یہ شیشہ اس نے بظاہر اس انتہائی گندے اور غلیظ نظر آنے والے انسان سے بات کرنے کیلیے اتارا تھا جو اکثر بال کھجاتا چوک پر نظر آ جاتا تھا. کالی شلوار قمیض میں ملبوس میلا کچیلا بدن۔ ۔ ۔ الجھے ہوئے بال جو گرد کی تہوں اور عرصہ دارز سے نہ دھلنے کے باعث بھورے ہو گئے تھے۔ بےطرح بڑھی ہوئی داڑھی جو آپس میں یوں الجھی ہوئی تھی جیسے اون کے گولے ایک ڈبے میں ساتھ رکھنے سے اکثر الجھ جاتے ہیں۔ ہاتھوں پر ناخنوں میں مٹی کی کالی دھاریں اور پھر انہی ناخنوں سے بدن کجھانا۔ ۔ ۔ اس بندے کو دیکھ کر کسی کو بھی ابکائی آ سکتی تھی۔ اسلیے میرا چونک جانا فطری سی بات تھی کہ آخر اتنی نفیس عورت کو کیا ضرورت پیش آئی اس انسان کو منہ لگانے کی۔ پھر خود ہی دل میں اندازہ لگایا کہ شاید راستہ پوچھ رہی ہو۔ میں دل ہی دل میں جہاں اس آدمی سے شدید حسد میں مبتلا ہوا وہیں اس عورت سے شکوہ کناں بھی ہوا کہ اسے اس بھری سڑک میں یہی آدمی راستہ پوچھنے کیلئے ملا تھا؟ مگر اس وقت میری حیرت دوچند ہو گئی جب وہ آدمی اس کے ساتھ کار میں بیٹھ گیا اور کار آگے بڑھ گئی۔ “باؤ جی جلدی جلدی کرو۔ پیچھے اور بھی گاہک کھڑے ہیں”۔ ریڑھی والے نے ٹوکا تو میں اپنا دھیان گاڑی سے ہٹا کر اسے جلدی جلدی مالٹے چن کر دینے لگا۔ میں ہمیشہ چند پیسے زیادہ دے کر اپنی مرضی کی چیز لیتا تھا کیوں کہ سبزی یا پھل والے اکثر گلا سڑا پھل ڈال دیتے تھے جس سے مجھے شدید کوفت ہوتی تھی۔ گو یہ ہمارے معاشرے میں کوئی ایسی معیوب بات نہیں اور ہم سب کے لفافوں میں اکثر ایک دو گلی سڑی چیزیں نظر جانا ہم ایک عام سی بات سمجھتے ہیں مگر اسے میری عادت کہہ لیں یا میرے دوستوں کے بقول میرا نفسیاتی مسئلہ کہ گلی سڑی چیز دیکھ کر میں سارا سامان پھینک دیتا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ میں دکاندار کو عام ریٹ سے زیادہ پیسے دے کر اپنی پسند کی چیز لینے پرمجبور کرتا تھا۔اس سے باقی کے خریدار کبھی کبھی چڑ جاتے تھے کہ میں ریٹ خراب کرتا ہوں مگر میں ایسے مواقع پر لاپرواہ سا بن جاتا تھا۔ اور پھر دکاندار بھی چار پیسے زیادہ لے کر ایک عجیب طرح کا پروٹوکول دیتا تھا جس سے میری لاپرواہی ذرا اور بڑھ جاتی۔
چند دن بعد کا قصہ ہے کہ میں ایک روز دفتر سے جلدی فارغ ہو گیا۔ مجھے کسی کام سے ایک دوست سے ملنا تھا۔ مقررہ وقت پر ریسٹورنٹ میں اس کا انتظار کر رہا تھا۔ کہ میں نے دروازے سے اسے اندر آتے دیکھا۔ عام طور پر شاید میں اسے کبھی نہ پہچانتا مگر اس دن اس آدمی کو ساتھ بٹھاتے دیکھ کر اس کی شکل جس طرح میرے ذہن میں ثبت ہو گئی تھی اسے میں کہیں بھی دیکھتا تو ہزاروں لوگوں میں بھی پہچان لیتا۔ وہی نفاست وہی شفاف حسن۔آج ذرا غور سے دیکھا تو مزید حسین معلوم ہوئی اور مجھے لگا کہ میں اس کے سحر میں کھو سا رہا ہوں۔ وہ میرے سامنے والی ٹیبل پر آ کر بیٹھ گئی۔ میں ہونقوں کیطرح اسے گھورنے لگا۔ وہ بھی آخر ایک عورت تھی اور جلد ہی اسے بھی معلوم ہو گیا کہ میں اسے ٹکٹکی باندھے دیکھ رہا ہوں۔ پہلے تو اس نے ذرا لاپرواہی برتی پھر ایک ابرو اچکا کر مجھے ایسے اشارہ کیا جیسے کہہ رہی ہو “کوئی مسئلہ ہے کیا؟”
میں شرمندہ سا ہو گیا۔ اتنے میں میرا دوست آ گیا اور میں اس کے ساتھ مصروف ہو گیا۔ بیچ میں نظر بچا کر میں اسے بھی چپکے سے دیکھ لیتا تھا۔ وہ اکیلی ہی بیٹھی تھی۔ کام سے فارغ ہو کر میں نے دوست کو خدا حافظ کیا۔ اور وہیں بیٹھا رہا۔دراصل میں دوست کے چلے جانے کے بعد اس عورت سے بات کرنے کا بہانہ ڈھونڈ رہا تھا۔ جیسے ہی دوست کار میں بیٹھ کر نظر سے اوجھل ہوا میں اٹھا اور اس عورت کے پاس جا کر کھڑا ہو گیا۔ “اکسکیوز می” میں نے کہا تو اس نے نظر گھما کر میری طرف دیکھا مگر منہ سے کچھ نہیں بولی۔ “وہ دراصل میں سوری کہنے آیا ہوں۔ آپ کو دیکھ کر لگا کہ شاید آپ سے پہلے بھی کہیں ملاقات ہو چکی ہے اسلیے پہچاننے کی کوشش کر رہا تھا۔ اسی لیے احساس نہیں ہوا کہ میں ایک حسین عورت کو گھورنے کی جسارت کر رہا ہوں”
“اوہ” اس کے منہ سے بس اتنا ہی نکلا۔ اور اچانک اس کے چہرے پر پھیلا تناؤ کچھ کم ہو گیا۔ اس نے ہاتھ سے اشارہ کیا کہ میں چاہوں تو کرسی پر بیٹھ سکتا ہوں ۔ مجھے بھی اور کیا چاہیے تھا؟ کوئی بھی مرد اس سرشاری کی کیفیت کا بخوبی اندازہ لگا سکتا ہے جس سے میں اس وقت گزر رہا تھا۔ فورا کرسی کھینچ کر نکالی اور بیٹھ گیا۔
“تو پھر پہچانا آپ نے مجھے”؟
ایک مترنم آواز میری سماعت سے ٹکرائی۔
“نہیں” نجانے کیوں میں نے جان کر جھوٹ بول دیا۔
“ہاہا بات کے اچھے بہانے ڈھونڈ لیتے ہیں آپ مرد حضرات”
اسکی ہنسی جہاں سحر انگیز تھی وہیں میں شرمندہ بھی ہو گیا کہ کہیں وہ مجھے عام مردوں کی طرح چھچھورا نہ سمجھ لے جس نے بات کرنے کی خاطر پہلے کہیں دیکھنے کا بہانہ تراش لیا۔
دعا سلام کے بعد بات چیت کے دوران مجھے اندازہ ہوا کہ وہ ایک امیر گھرانے سے تعلق رکھنے والی کافی پراعتماد عورت تھی.
ہم کافی دیر باتیں کرتے رہے ۔ وقت گزرنے کا پتہ ہی نہ چلا۔ واپسی پر ہم نے موبائل نمبر کا تبادلہ بھی کر لیا۔ وہ جس سوسائٹی سے تعلق رکھتی تھی وہاں یہ عام سی بات تھی ورنہ میں ضرور ٹھٹک کر سوچتا کہ کیسی بے باک عورت ہے جس نے پہلی ہی ملاقات میں اپنا نمبر بھی مجھے دے دیا۔ میں خود بھی اس جیسا امیر اور بڑے گھرانے سے نہ سہی مگر کافی خوشحال تھا۔ اور شکل و صورت کے لحاظ سے بھی اچھی طرح جانتا تھا کہ کئی لڑکیاں میری نظر کرم کی منتظر رہتی ہیں۔ لیکن آج اس پری چہرہ کا یوں مجھے لفٹ کروانا (یہ لفٹ کروانا میں خالص اپنی مردانہ تسکین کے لیے سمجھ رہا تھا ورنہ اسکے لیے یقینا یہ ایک عام سی بات تھی) مجھے بے حد اچھا لگ رہا تھا۔
فون پر بات کا بہانہ اور پھر ملاقات کا جواز بھی میں نے بڑے آرام سے نکال لیا۔ ہم مرد بھلا ایسے مواقع اتنی آسانی سے کہاں جانے دیتے ہیں؟۔ کہاں کیا بات کرنی ہے ؟ عورت کو کیسے شیشے میں اتارنا ہے؟ کون سی بات عورت پر کیسے اثرانداز ہو گی؟ یہ بھلا ہم مردوں سے بہتر کون جان سکتا ہے؟ ویسے بھی میرا ماننا ہے کہ ہر خاص عورت کے اندر بھی ایک عام سی عورت ضرور چھپی ہوتی ہے جو کسی بھی عام سے مرد کے ہاتھوں پگھل سکتی ہے۔ اور یہیں مرد کا امتحان ہوتا ہے.میرے نزدیک جو مرد عورت کو عورت نہ ثابت کر سکے وہ مرد نہیں ہوتا۔
اس کا نام سحر تھا۔ جو اسکی شخصیت کی بھرپور حمایت اور عکاسی کرتا تھا۔ سحر غیر شادی شدہ تھی۔ بقول اسکے “رسموں کے محتاج بندھن سے فی الحال آزاد” جس کا مطلب میں نے غیر شادی شدہ ہی نکالا۔ میں سحر کے سحر میں اسقدر کھویا کہ مجھے اس کے علاوہ کوئی نظر نہ آتا۔ بس دن رات میرے حواس پر سحر چھائی رہتی۔ یہاں تک کہ میں نے اسے پروپوز کرنے کا سوچ لیا۔ ہر ملاقات میں میں نے شدت سے محسوس کیا کہ وہ جتنی بھی بے باک تھی مگر ایک خاص حد ضرور قائم رکھتی۔ کم از کم اس معاملے میں اس نے مجھے ہرا دیا تھا کہ ہزار داؤ پیچ کے بعد بھی میں اسے چھونے یا ہاتھ لگانے کا موقع نہ تلاش کر پایا تھا اور نہ وہ کرنے دیتی تھی۔اسکی یہ بات میرے دل پر ایک مثبت مہر کی طرح ثبت ہو گئی کہ اپنی بے باکی کے باوجود وہ مجھے کسی کی بھی جھولی میں پکے آم کیطرح گرنے کو بےتاب نہیں لگی ۔میرے دل میں اس سے شادی کی خواہش نے اور بھی زور پکڑ لیا۔اسکی اس بات سے میری مردانگی کو کافی تسکین ملی تھی کہ میری ہونے والی بیوی ایک مضبوط کردار کی مالک عورت تھی۔
بالاخر میں نے اس سے حتمی بات کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ راستے میں پھولوں کی دکان پر رک کر میں نے ایک ایک پھول اپنے ہاتھ سے چن کر بوکے میں ڈلوایا۔ اور اس کے پاس پہنچا۔ معمول کی بات چیت کے بعد میں نے اسے کہا “سحر جانتی ہو آج میں تم سے ایک خاص بات کرنے آیا ہوں۔ لیکن پہلے یہ بتا دوں کہ میں نے تمہیں سب سے پہلے ایک چوک پر ایک میلے سے آدمی کو گاڑی میں بٹھاتے دیکھا تھا اور اسی لیے تمہیں اس ریسٹورنٹ میں پہچان لیا۔ اس ننھے سے جھوٹ کیلیے معذرت خواہ ہوں۔ ”
یہ کہتے ہوئے میرا دھیان اس انگوٹھی کی جانب بھی گیا جو ابھی کچھ دیر بعد میں سحر کی انگلی میں پہنانے والا تھا اور مجھے یقین تھا کہ وہ اسے انکار نہیں کرے گی۔
میری بات سن کر سحر کے چہرے پر ایک عجیب سا رنگ آ کر گزر گیا۔ لیکن وہ خاموش رہی۔ یہاں تک کہ میں نے اسے شادی کی پیشکش کر دی۔ جسے اس نے چہرے پر پھیلے دھنک رنگوں کے ساتھ قبول کر لیا۔ میں نے جھٹ انگوٹھی نکال کر اسکی انگلی میں پہنا دی۔ اب ہم ایک رشتے میں بندھ چکے تھے۔
سحر نے کہا” تو تم نے پوچھا کیوں نہیں اس آدمی کے بارے میں مجھ سے؟”
میں نے اسے بتایا کہ میں نہیں چاہتا تھا کہ میں اسے بتاؤں اور وہ برا منا لے۔ وہ کھلکھلا کر ہنسی اور بولی تو یار میں نے کب تم سے کچھ جھوٹ بولا ہے۔؟ تم پوچھ بھی لیتے تو میں بتا دیتی۔ میں نے بے خودی سے پوچھا “تو تم اب بتا دو نا ڈیئر. میں سننے کو تیار بیٹھا ہوں”
وہ سنجیدہ ہو کر بولی ” تم کیا سمجھے وہ آدمی کون ہے”؟
“ہاہا یہ کیسا سوال ہے۔؟ خیر میں تو عام لوگوں کیطرح یہ سمجھنے سے لے کر کہ تم اس سے راستہ پوچھ رہی ہو یہ تک سمجھ بیٹھا کہ تم کوئی سمگلر ہو اور ایسے آدمیوں کا اسعتمال کرتی ہو اپنے دھندے کیلیے”
اس بات پر وہ ہنس پڑی اور پھر دوبارہ سنجیدہ ہوتے ہوئے بولی “ارے نہیں۔ آج تمہیں بتا دیتی ہوں چونکہ اب ہم ایک بندھن میں بندھ چکے ہیں۔اسلیے اس بات کو نہ بتانے کا بھی کوئی جواز نہیں۔تم اسے میرے ساتھ ایک نفسیاتی مسئلہ ہی سمجھ لو۔ میں اس آدمی کو اپنے ساتھ رات گزارنے کےلیے لے گئی تھی. ایسے غلاظت بھرے آدمیوں کے سامنے اپنا آپ پیش کر کے مجھے ایک عجیب سی خوشی ملتی ہے۔ جب وہ اپنے سرانڈ زدہ وجود کے ساتھ مجھے ایک اچانک مل جانے والے اچھے کھانے کی طرح نوچتے کھسوٹتے ہیں تو مجھے روح کے اندر تک سرایت کر جانے والی۔ ۔ ایک بےنام مگر سرشار کر دینے والی تسکین حاصل ہوتی ہے۔ اور اپنا آپ اس سارے جہاں میں سب سے خاص لگتا ہے۔ میرے لیے اس احساس کا کوئی نعم البدل نہیں۔اور میں انہیں محض ایک رات کیلیے اچھی خاصی رقم دیتی ہوں جسے وہ خوشی خوشی قبول کرتے ہیں”
“تو یہ سب پہلے کیوں نہیں بتایا؟”
میرے منہ سے گھٹی گھٹی سی آواز نکلی۔
“تم نے کبھی پوچھا ہی نہیں۔ اور میرا نہیں خیال کہ تمہیں اس سے کوئی فرق پڑتا ہو گا.تمہیں اندازہ تو ہے کہ ہماری سوسائٹی میں سب چلتا ہے اور تم نے پہلی دفعہ مجھ سے بات کی تو مجھے تم میں بھی ایسے آدمی کی شبیہ نظر آئی جو خود سے بہتر لگنے والی عورت کو نوچنے پر آمادہ نظر آتے ہیں”
اسی لمحے مجھے احساس ہوا کہ میرے لائے ہوئے پھول تو خوشبو سے عاری ہیں اور مجھے خود سے ایسی کراہت محسوس ہوئی جیسے میں لفافے میں غلطی سے آ جانے والا گلا سڑا پھل ہوں.

13708308_1024435551006147_4875031783079856975_o

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

w

Connecting to %s