شادی مبارک

دو چار روز پہلے کی بات ہے ۔ ۔ میں صبح کےروز ٹی وی دیکھ رہی تھی کہ اچانک ٹھٹک کر رہ گئی۔ ۔ ایک مارننگ شو دیکھا جس میں شادی کروائی جا رہی تھی۔ یوں تو ہم مارننگ شوز کے بارے میں بہت کچھ اچھا برا سنتے ہیں۔ لیکن میں دلائل کے ساتھ ایک ہی بات پر فوکس کروں گی۔
شو دیکھ کر میں تقریبا حیران رہ گئی۔ ایک سے بڑھ کر ایک لباس اور ایسی ایسی رسومات کہ کبھی دیکھی نہ سنیں۔ آخر میں محترمہ نے کہا کہ شادی کیلیے مختلف آئیڈیاز دیے جا رہے ہیں۔ جن کا مقصد شادی کو مزید رنگین اور لطف اندوز کرنا ہے۔شادی کو ایک پرلطف تقریب بنانا اپنی جگہ مگر کیا آئیڈیاز کے نام پر ایک سے بڑھ کر ایک فضول اور بے ہودہ رسم متعارف کروانا ٹھیک ہے؟ ؟ کیا پہلے ہی ہم ان گنت ایسی رسومات کا بوجھ ڈھوتے ڈھوتے معاشرے کو ناتواں نہیں کر چکے؟
اسلام میں ایک صحابی نے حضور کی خدمت میں حاضر ہو کر جب تنگیِ رزق کی شکایت کی تو حضور نے انہیں نکاح کا مشورہ دیا۔ جبکہ آج کل شادی کیلیے کہا جاتا ہے کہ لڑکا کچھ کمائے ، سیٹل ہو تو پھر شادی کی جائے گی۔ اور گھر کے اخراجات، بہنوں کی شادیاں ، مختلف قرض اتارتے ہوئے ایک مڈل کلاس آدمی کو سیٹل کم اور ایسی ذمہ داریوں سے فارغ ہونے کا موقع ہی 35 40 سال سے کم میں نہیں ملتا.
ایسے میں اتنا عرصہ کنوارہ رہنےکے دوران معاشرے میں جس قدر بے راہ روی پروان چڑھ رہی ہے کون نہیں جانتا۔ افیرز ۔ ۔ ناجائز تعلقات ۔ ۔ اور غیر شرعی طریقوں سے نوجوان نسل اس ضرورت کو پورا کرتی ہے جو خدا نے ان کے اندر اوائل جوانی میں پیدا کی ہے۔ ہر ضرورت مکمل ہونا مانگتی ہے۔ بھوک میں کھانا۔ ۔ پیاس میں پانی ۔ ۔ غم میں اپنوں کا ساتھ ۔ ۔ اور برے وقت میں دوست چاہیے۔ الغرض ضروریات زندگی یوں ہی زندگی کے ساتھ ساتھ چلتی رہتی ہیں۔ ۔ اسی طرح خدا نے جسم کے اندر جنس کی بھوک بھی رکھی ہے جس کا مکمل ہونا ضروری ہے۔ اور اتنے عرصے نکاح نہ کر کے فی زمانہ معاشرے میں جس قدر نام نہاد ماڈرن ازم پنپ چکا ہے اس میں کوئی کیسے اتنے طویل عرصے تک اس ہیجان پر قابو پا سکتا ہے؟ اوپر سے بچوں تک میں انٹرنیٹ اور موبائل کا بے جا استعمال۔ ان حالات میں تو نکاح کو سہل سے سہل کرنے کی ضرورت ہے۔ تاکہ مجموعی طور پر معاشرہ مثبت سمت میں لے جایا جا سکے۔
لیکن مارننگ شو میں ایسی ایسی روایات دیکھیں کہ مڈل کلاس شادی کو مشکل سے مشکل ترین بنا دیا گیا ہے۔ بھلا کون اتنے مہنگے لباس خریدنے کی استطاعت رکھتا ہے؟ مڈل کلاس تو بالکل نہیں۔ اور کتنی ہی لڑکیوں کے ارمان نہ جاگے ہوں گے۔ ۔اتنی خرافات دیکھ کر۔ کتنی ہی لڑکیاں ماں باپ کو تنگ کریں گی اور کتنی ہی اپنی خواہشات کو حسرت میں بدلتے دیکھیں گی۔ کیا معاشرے کو احساس محرومی کا یہ تحفہ دینا صحیح ہے؟
اسلام میں ان سب خرافات کا تصور تک نہیں۔ ایک آسان سا نکاح اور ولیمہ ہے لیکن یہاں سنگیت ڈھولکی مایوں سے شروع ہو کر پگ پھیرے اور میکے پہلی دفعہ آئی شادی کے بعد تک عجیب و غریب رسومات کا بول بالا ہے۔ مقصد تفریح کم اور دکھاوا زیادہ ہے۔
غریب آدمی تو چھوڑو سفید پوش اور مڈل کلاس طبقے کے لوگوں کی تو عمر گزر جاتی ہے شادی کیلیے پیسے جوڑتے ہوئے۔ ۔ یہاں تک کہ بیٹی کے سر پر چاندی کے تار جھلملانے لگتے ہیں۔ ایسی شادی کیلیے تو انکی عمر بھی ناکافی ہے پیسے جوڑنے کیلیے.
ایک سایکولوجیکل ریسرچ میں پڑھا تھا کہ اکیس سے بچیس سال کی عمر تک انسان میں خود کو ڈھال لینے کا مادہ بہت زیادہ ہوتا ہے۔ یعنی جن بچیوں بچوں کی شادی اتنی عمر کے درمیان کی جاتی ہے وہ جلدی ایک دوسرے کے مطابق خود کو ڈھال لیتے ہیں اور ماحول میں ایڈجسٹ ہو جاتے ہیں۔ اسکے بعد جو عادات شخصیت کا حصہ بن جائیں ابکو بدلنا خود انسان کے بس کی بھی بات نہیں ہوتی۔ ایک لڑکی جس نے تیس سال کی عمر تک اپنے ماں باپ کے گھر اپنی مرضی کی زندگی گزاری ہو وہ کیسے آسانی سے سسرال اور شوہر کی عادات کے مطابق خود کو ڈھال پائے گی۔ ایک کامیاب شادی کیلیے عورت کا تھوڑا بیوقوف اور معصوم ہونا بھی ضروری ہے۔ کیونکہ عورت بہت سے تعاون اپنی کم عمری اور کم علمی کے باعث کر لیتی ہے۔ جس سے ماحول سکھی رہتا ہے۔ جب کہ ایک عقلمند عورت جسے ہر اونچ نیچ کی خبر ہو۔ اتنی آسانی سے خود پر کچھ حاوی نہیں ہونے دیتی۔ اور شادی ضد کے سبب کئی مسائل کا شکار ہو جاتی ہے۔
اسی طرح مرد حضرات بھی جتنی جلدی شادی کی جائے اتنی جلدی اس ماحول میں ڈھل بھی جاتے اور زمہ داری کو سمجھ بھی لیتے ہیں۔
تیس پینتیس سال ایک طرح سے آدھی عمر ہے اوسط عمر کے حساب سے۔یعنی زندگی کا ساتھی اوائل زندگی کی بجائے آدھی عمر آپ کے ساتھ رہے گا۔
چار شادیوں پر سب مرد اسلام اسلام کرتے لیکن اگر ایک ہی ڈھنگ سے کر کے جیا جائے تو زندگی کا لطف دوبالا ہو جائے۔ شادی کے وقت جہیز نہ لیا جائے۔ فضول رسومات کی بجائے آسانی سے شادی کو فروغ دیا جائے۔ اور جلد کسی بھی شریف لڑکی سے حسن و دولت سے بے نیاز ہو کر شادی کی جائے تو معاشرہ کافی حد تک برائیوں سے پاک کیا جا سکتا ہے smile emoticon
زندگی کی چھوٹی چھوٹی خوشیاں نمود و نمائش۔ ۔ اور دکھاوے میں نہیں بلکہ سکون میں چھپی ہیں۔ ہمیں ان فضول رسومات کا بائیکاٹ کرنا ہو گا۔ جو وقتی کھوکھلے قہقہوں تک تو ٹھیک ہیں۔ مگر انکے دیر پا اثرات منفی ہیں۔
اگر آپ کے پاس بے حد پیسہ بھی ہے تو کیوں نہ اس پیسے کو آپ ایک دن کی فضولیات میں ضائع کرنے کے بجائے کسی کی زندگی سنوارنے میں لگا دیں۔ کئی غریب بچیوں کی شادیاں کروا دیں۔ ۔ انکی دعاؤں سے آپ کی زندگی میں بھی وہ مٹھاس گھل جائے گی جو مہنگے لباس اور قیمتی سجاوٹ آپ کی زندگی میں نہیں لا سکتے۔
شادی کو آسان بنائیں۔ جلد شادی کو پروموٹ کریں۔ ۔ اور نوجوان نسل اور معاشرے کو ایک بہتر سمت دیں۔ اور سب سے پہلے تو پیمرا ان مارننگ شوز پر نظر دواڑئے ورنہ وہ دن دور نہیں جب اسلامی معاشرہ صرف نام کا بھی نہ رہے گا۔ ۔13267788_10154184261132152_6004011971317164102_n

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s