فریاد

جسے خون جگرسے سینچا تھا میں نے
جسے بازؤں میں بھینچا تھا میں نے
جسکی ھنسی سے روشن مرا ھر دن تھا
اک پل نہ چین مجھے جسکے بن تھا
کتنے سپنے تھے میری آنکھوں میں اسکو لے کے
جسے بھیجا تھا ھزاروں دعائیں دے کے
یہ کس طرح ھے واپس اسکو بھیجا
درد سے پھٹا جاتا ھے میرا کلیجہ
میری ویران آنکھیں ماتم کناں ھیں
لٹ گئے میرے سارے جھاں ھیں
یہ کیسا تم نے گناہ کیا ھے
مری ممتا کو کیسے تباہ کیا ھے
میں کس کی اتنی بلائیں لوں گی
میں کسکو بےحساب دعائیں دوں گی
ھاتھوں میں یہ اسکی لیے خون آلود جوتیاں
میری آنکھوں کے سامنے رقضاں ھیں ڈگری سھرا پوتے پوتیاں
پورے میرے ارماں ھونے تو دیتے
ظالمو۔۔میرا بیٹا جوان ھونے تو دیتے

فاطمہ

Advertisements

One thought on “فریاد

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

w

Connecting to %s