نیلگوں گلاب

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
وہ جھک کر نیلگوں ہوتا گلاب دیکھنے لگی۔اس نے پتیوں کو چھو کر باہر کی طرف موڑا۔ گلاب کے کناروں پر لال رنگ آہستہ آہستہ ضم ہو رہا تھا جبکہ اندر کی طرف نیلاہٹ واضح تھی۔ پھر اسکی نظر کیاری میں پڑی مٹی پر پڑی۔ گہرے رنگ کی مٹی دیکھ کر اسے یاد آیا کہ اسکا ہاتھ لگنے سے روشنائی کی بوتل میز سے گر کر ایک کونے سے ٹوٹ گئی تھی۔ہڑبڑا کر اس نے ٹوٹی ہوئی روشنائی کی بوتل اٹھائی اور کھڑکی سے باہر پھینک دی۔ وہی روشنائی اب اس گلاب کو نیلا کر رہی تھی۔
اس نے ایک ٹھنڈی سانس بھری اور اندر کی طرف چل دی۔
°°°° °°°°°
پچھلے نومبر کی بات ہے جب ان دونوں نے اپنے ہاتھوں سے اس گلاب کی کونپل زمین میں لگائی تھی۔ اور پہلے گلاب کی آمد کے ساتھ اس نے کہا تھا”مدھو! دیکھو تو اس گلاب کو نرمی تمہارے ہاتھوں سے ہی ملی ہے” اور وہ کھلکھلا کر ہنس دی تھی۔
“اس گلاب کا نام بھی مدھو ہونا چاہیے۔ تمہارے رخسار بھی اسکی طرح لال ہیں”
“چلو ہٹو۔۔بے شرم کہیں کے۔۔۔ مدھو نے شرما کر کہا۔
ویسے ماں نے اسے گلاب کی طرح ہی سینت سینت کر رکھا تھا۔ اسکی ممتا کی جھلک مدھو کے نام سے ہی چھلکتی تھی جو پچیس سال پہلے ماں نے اسے پیار سے گود میں لیتے ہی دیا تھا۔ماں کے بعد تو مدھو بالکل ہی اکیلی ہوجاتی اگر وہ نہ ہوتا۔ جب ماں زندہ تھی تو اس کا آنا بالکل پسند نہیں کرتی تھی۔ جانے کیوں ماں کو “محبت” لفظ سے ہی چڑ تھی .مگر مدھو کو بس سمجھاتی۔کبھی اسکی راہ کا کانٹا نہیں بنی کہ مبادا اتنے برسوں سے سنبھالا ہوا مدھو کا نازک دل ٹوٹ نہ جائے۔ماں کے بعد مدھو کا جی اکیلے گھبرا جاتا تو وہ مدھو اور اس گھر کی تنہائی بانٹنے اکثر آ جایا کرتا تھا اور اسکا جادو مدھو پر سر چڑھ کر بولتا۔
….. ۔۔۔۔ ۔
وہ بہت کتابی باتیں کیا کرتا تھا۔۔۔ اور مدھو انہیں محبتوں کی افسانوی باتیں کہا کرتی۔۔ “محبت ہر قید سے آزاد ہے۔۔۔محبت کی کوئی سرحد نہیں ہوتی۔۔۔ محبت میں سب جائز ہے.. محبت ایک پاکیزہ جذبہ ہے ”
اور اس طرح کی ہزاروں باتیں جو مدھو کے کمرے میں شیلف پر رکھی محبت کی ہر دوسری کتاب میں لکھی تھیں۔
“مجھ سے محبت کا مطلب جانتے ہو؟”
مدھو کسی انجانے خوف سے گھبرا کر کہتی۔۔۔
“محبت جنس کی قید سے بھی آزاد ہے۔میری پیاری مدھو۔۔دنیا تمہیں جو مرضی کہے مگر میرے لیے تم صرف میری محبوبہ ہو اور میں تمہارا چاہنے والا”
اس کے پاس جیسے مدھو کے ہر سوال کا جواب تھا۔۔
“مگر جس محبت کی بنیاد تم رکھ رہے ہو ۔۔اسے قبول نہیں کیا جائے گا۔ تم مجھے چھوڑ تو نہ جاؤ گے؟”
مدھو اسکی آنکھوں میں دیکھ کر کہتی اور وہ اس کے ہونٹوں پر انگلی رکھ دیتا۔
۔۔۔
جاڑے کی ہی کسی دوپہر اس نے مدھو کے ہاتھ میں وہ لفافہ پکڑایا۔
“یہ کیا ہے؟” مدھو نے پوچھا
میری شادی کا کارڈ”
“شادی؟”
“مگر تم تو مجھ سے محبت کرتے تھے؟”
“ہاں۔ ”
“تم تو کہتے تھے کہ محبت ہر قید سے آزاد ہوتی ہے؟”
“ہاں”
“پھر شادی”؟”
“دیکھو محبت نہیں صرف شادی کر رہا ہوں ۔ویسے بھی تم سے شادی کر کے بچے تو نہیں پیدا کر سکتا نا. اس کے لیے تو شادی کرنا ہی پڑے گی۔”
“مگر میرا کیا ہو گا؟” اس کے لہجے میں التجا تھی۔۔
تم سے محبت تو میں ہر حال میں کرتا ہی رہوں گا۔ میں نے تم سے پہلے بھی کہا تھا محبت جنس کی قید سے آزاد ہے میری پیاری مدھو۔۔۔”
مدھو دم سادھے اس کے چہرے کی جانب دیکھتی رہی۔ اس کے ہونٹوں سے ادا ہوتے یہ الفاظ مدھو کے کانوں سے ہوتے ہوئے اس کے جسم میں زہر بن کر اتر رہے تھے اور اسے لگ رہا تھا کہ یہ کڑوا زہر آہستہ آہستہ اس کے جسم میں سرایت کر رہا ہے۔ اتنا زہر تو تب بھی اس کے جسم میں نہیں اترا تھا جب اسکی سگی ماں نے اسے پیدا ہونے کے دوسرے ہی روز گرو ماں کی گود میں ڈال دیا اور گرو ماں نے اسے گلے سے لگا لیاتھا۔ گرو ماں نے دنیا کی ہر آسائش اسکی جھولی میں ڈال دی۔مگر ہونی کو گروماں بھی کیسے ٹال سکتی تھی بھلا۔ یہ زہر تو اسے کبھی نہ کبھی پینا ہی تھا۔۔۔
مدھو کو اچانک وہ نیلگوں ہوتا گلاب یاد آ گیا۔ اور اس کے ہونٹوں سے ایک سسکاری سی نکلی ” سالا! ہیجڑہ کہیں کا”!!!

Advertisements

ملکیت

 

اس کے چاروں طرف آندھیاں چل رہی تھیں۔ کالک کا احساس اتنا گہرا تھا جیسے گھپ اندھیرا دھواں بن کر دھیرے دھیرے اس کی روح سیاہ کرتا ہو۔ آنکھوں سے بہتے سیال کی گرمی اسکے وجود کو چھلنی کر رہی تھی۔
ہر قطرہ ۔ ۔ ٹپ سے گرتا اور روح پر ایک گھاؤ ۔ ایک نشان۔ ۔ ایک اذیت چھوڑ جاتا۔ مشکل تو یہ تھی کہ وہ اس اذیت کا پرچار بھی نہیں کر سکتی تھی۔ کسی سے غم بانٹ کر آدھا بھی نہیں ہو سکتا تھا۔
دلہن کو منہ دکھائی میں کیا ملا؟ سرگوشیوں میں کیا بیان ہوا؟
محبتوں میں گندھے وفا کے عہد و پیمان۔ ۔
بند دروازوں کے پیچھے نرم گداز رازوں کا لین دین ۔ ۔
سکھیاں صبح ہوتے ہی افشاء ہونے کا انتظار کیا کرتی ہیں اور پور پور نشےمیں ڈوبی سہاگن کبھی غرور سے۔ ۔ کبھی نخرے بھری ادا سے اور کبھی مان سے۔ ۔ کچھ کہتے کہتے لب روک لیتی ہے۔ اس کی دھیمی مسکان۔ ۔ پلکوں پر گرتی حیا کی چلمن سے کچھ کچھ ان کہے راز کہہ دیتی ہے۔ اور دلہن اپنے آپ میں سمٹ کر لال ہو جاتی ہے۔
مگر وہ کیا بتائے گی سکھیوں کو صبح؟ کہ اسے منہ دکھائی میں گالی ملی ہے؟
۔ ۔ ۔
قسمت نے دوسری بار عروسی جوڑا پہننے کا موقع دیا تھا۔ کئی کنواری لڑکیاں اسکی کلائی پھر سے کھنکتی چوڑیوں سے بھر جانے پر حسد اور رشک میں مبتلا تھیں۔ مگر حجلہ عروسی میں اس پر کسی غیر مرد کے “زیر استعمال” رہنے کی وجہ سے اسے “استعمال شدہ” عورت ہونے کا طوق ملا تھا۔ ۔
۔ ۔
لیکن وہ غیر مرد تو اسکا شوہر تھا ۔ پہلا شوہر۔ ۔ سب کی مرضی اور خوشی سے اس کی زندگی میں شامل ہونے والا شخص۔ ۔ اس کی سانسوں تک پر مالکانہ حقوق رکھنے والا وہ شخص غیر تو نہیں تھا۔ پھر اس کے نام کا ٹیکا آج گالی بنا کر کیوں اس کے ماتھے پر سجایا گیا؟
اور وہ “غیر” شخص جب کفن میں اسکے سامنے لایا گیا تب بھی سفید جوڑا زیب تن کرنے اور سونی کلائیوں میں سناٹے بھرنے میں اسکی مرضی شامل نہیں تھی۔ ہرگز نہیں تھی۔ وہ تو پورے من سے اسکی تھی۔ ایک ایک سانس اسکے نام کر چکی تھی۔
مگر سب نوچ کر پھینک دینا پڑا۔ اور وہ کر بھی کیا سکتی تھی؟۔ اس کے بس میں نہیں تھا ساری عمر ایک ہی نام کی مالا جپنے کا حق رکھنا۔ ۔ ۔کہ ابھی تو بھری جوانی تھی اور عمر بیتنے میں عرصہ پڑا تھا ۔ ۔
نیا عروسی جوڑا بدن پر سجانے سے پہلے اس نے پوری ایمانداری سے پہلی یاد بھی دل کے کسی کونے میں پھینک چھوڑی۔ بھُلا دینا تو اس کے بس میں نہ تھا لیکن چھپا لینے پر اسکا پورا اختیار تھا۔ دل کے ایک گوشے میں اس نے ایک حصہ ان یادوں کے نام مخصوص کرنے کے بعد انہیں وہیں بند کر کے قفل لگا دیا تاکہ ماضی کی پر چھائیاں کہیں اسے حال اور مستقبل سے غافل نہ کر دیں۔
نئے سپنوں کے جگنو ایمانداری سے آنکھوں میں ٹانک کر وہ ایک بار پھر پیا سنگ چل پڑی۔ مگر یہ راہ تو ہمسفر کے ساتھ ہونے کے باوجود بھی دشوار تھی۔ اتنی خاردار منہ دکھائی نے اسکی روح تک نوچ ڈالی تھی۔ ۔
اسے اچھی طرح جتا دیا گیا کہ اب اسے جیسے چاہے روندا جا سکتا ہے کیونکہ وہ پہلے سے کسی اور کے ساتھ ملن کی راہوں کی مسافر رہی ہے۔
اب اسے کوئی نازک کلی کی طرح سینت سینت کر نہیں رکھے گا۔
وہ پھر سے کسی کے دل کے سنگھاسن پر براجمان نہیں ہو سکتی۔ کیوں کہ اب وہ دوسری سہاگن تھی۔ ۔دوسری عورت کی طرح بےکار سمجھی جانے والی۔ ۔
اسے احساس ہوا اسکا تخت و تاج بھی اس غیر مرد کے ساتھ منوں مٹی تلے دفنا دیا گیا ہے۔
مگر نئی سلطنت کی ملکیت بھی تو اس کی تھی ۔ ۔ پھر کیوں؟
اس کا انگ انگ چیخ رہا تھا ۔ کیوں؟ کیوں۔ ۔؟ آخر کیوں؟
صبح سکھی نے کندھے پر دوپٹہ ٹھیک کرتے ہوئے گردن پر گہرے نشان نظر انداز کرنے کی اداکاری کرتے ہوئے مسکرا پوچھا “دلہا میاں کیسے لگے؟”
تو لبوں کو جوڑ کر “بہت اچھے” کہتے ہوئے۔ ۔ ۔
پہلی محبت۔ ۔ پہلی چاہت ۔ ۔ پہلے اظہار اور پہلے پیار کے ساتھ ساتھ “پہلی عورت” ہونا بھی کتنا ضروری تھا اس کا اندازہ اسکی جھکی آنکھوں کے لال ڈوروں میں دیکھ کر لگانا مشکل تھا

تیرھواں گھنٹہ

پچھلے چار پانچ دن سے وہ اضطراب سا محسوس کر رہا تھا۔ ایک عجیب سی بے چینی اور احساس اسے گھیر لیتا۔ ایسے لگتا جیسے دو آنکھیں اسکا تعاقب کر رہی ہیں۔ وہ ادھر ادھر دیکھتا مگر ہجوم میں سمجھ نہ پاتا کہ کس کی آنکھیں اسکا طواف کر رہی ہیں۔ آج تو اس نے پی بی کم تھی۔ ہلکے ہلکے سرور میں اچانک اسکی نگاہ ایک آدمی پر پڑی جو بظاہر سب سے لاتعلق دور کھڑا نیچے زمین پر اپنے جوتوں کو گھور رہا تھا۔پھر اس نے نیچے بیٹھ کر جوتوں سے کچھ جھاڑنا شروع کر دیا۔ زآرعون اٹھا اور ایک انجانے سے جذبے کے زیر اثر اس کی طرف کھچتا چلا گیا۔ اس آدمی نے نظر اٹھا کر دیکھا اور مسکراتے ہوئے بولا “ہیلو ینگ مین ! تو تم نے مجھے ڈھونڈ ہی لیا۔ “کون ہو تم؟” زآرعون بولا
“مددگارہوں تمہارا” اس آدمی نے متانت سے جواب دیا۔لیکن زآرعون سنی ان سنی کرتے ہوئے بولا۔
“تم مجھے گھور کیوں رہے تھے اتنے دنوں سے؟”
“میرے پیچھے آؤ ۔سب بتاتا ہوں”
اور ہلکے ہلکے سرور میں ڈوبا زآرعون اسکے پیچھے چل پڑا۔ ہوٹل سے نکل کر دونوں سڑک پر آ گئے۔ کئی گلیاں اور موڑ مڑنے کے بعد وہ آدمی اسے ایک اندھی گلی میں لے آیا جہاں نسبتا اندھیرا تھا۔ زآرعون نشے میں تھا لیکن ابھی اتنا بھی بیگانہ نہ ہوا تھا کہ اسکا ماتھا نہ ٹھنک جاتا
” کون ہو تم؟ کیا چاہتے ہو؟ میرے پاس کوئی رقم نہیں جسے تم لوٹنا چاہتے ہو۔”
اس آدمی نے زآرعون کی بات پر کوئی ردعمل نہ ظاہر کیا اور دھیمے سے بولا۔
“میں ‘ہیلر'(healer) ہوں۔ کائنات کے شگاف بھرتا ہوں۔ ”
اسکی بات زآرعون کو مضحکہ خیز لگی اور اب کی بار وہ نسبتاً لڑکھڑاتے ہوئے بولا۔ ۔ “دوست میں دل کے شگاف نہیں بھر پا رہا اور تم کائنات کے شگاف بھر رہے ہو۔ واہ ”
” تم چاہو تو میں تمہاری مدد کر سکتا ہوں” اجنبی بولا۔
“کیسی مدد؟تم کیا جانو مجھے کیا چاہیے۔؟”زآرعون نے تنک کر کہا۔
“تمہیں تاشی کا ساتھ واپس چاہیے”
زآرعون نشے ، حیرانی اور شک کی کیفیات کے بیچ ڈول گیا۔اور خالی خالی نظروں سے اس آدمی کو گھورنے لگا۔اس آدمی نے اپنی بات جاری رکھی” اگر تمہیں میری مدد چاہیے تو ٹھیک دو دن بعد یہیں ملنا” اور اسکے بعد لمبے لمبے ڈگ بھرتا ہوا نظروں سے اوجھل ہو گیا۔ اسکے بعد زآرعون کو کچھ ہوش نہ رہا۔ آنکھ کھلی تو خود کو بستر پر پایا۔ ذہن پر زور دینے کے باوجود اسے کچھ یاد نہ تھا کہ وہ گھر کیسے پہنچا؟ لیکن اس آدمی سے ملاقات کا حرف بحرف اسے یاد تھا۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔ ۔۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔۔۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔
کیا نہیں تھا اسکے پاس؟ سب کچھ تو تھا۔ بس ایک دل ہی نہ تھا پہلو میں. نہیں نہیں دل بھی تھا۔ مگر اس دل میں حرارت نہیں تھی ۔ ۔ ۔ جذبات کی۔ ۔ ایسے دل کو بنجر دل کہنا ٹھیک ہو گا۔لیکن یہ دل ہمیشہ سے بنجر نہیں تھا۔کبھی اس میں محبت کی ہریالی تھی۔ جذبات کی مہک تھی اور لاتعداد شگوفے تھے جو تاشی کو دیکھتے ہی ایک نہ سنائی دینے والی ‘پٹک’ کے ساتھ پھوٹ پڑتے۔ تاشی کے سنگ زندگی اتنی حسین تھی کہ مستقبل کے سنہرے سپنوں میں گم روشن حال کی رعنائیاں سمیٹتے ہوئے اسے معلوم ہی نہ پڑا کہ کب اسکی دنیا اچانک درہم برہم ہو گئی۔ تاشی نے طلاق مانگی تھی۔
“مجھے تم سے طلاق چاہیے۔ میں تمہارے ساتھ مزید گزارا نہیں کر سکتی۔” یہ الفاظ نہیں بم تھے اور اس کے منہ سے بس اتنا ہی نکلا “کیا؟؟” حالانکہ وہ “کیوں؟” کہنا چاہتا تھا۔ مگر اس کیوں کی گتھی بھی تاشی نے خود ہی سلجھا دی۔ “دیکھو زآرعون ۔ہم ایک دوسرے کے لیے نہیں بنے۔ جانتے ہو میں تم سے کہتی تھی کہ میاں بیوی پزل کے دو ٹکڑے ہوتے ہیں۔ ایک کی کمی کو دوسرا پورا کرتا ہے مگر تمہارے پاس ایسا کوئی ٹکڑا نہیں جو میرے خلا کو بھر سکے۔ ”
اور اسکے بعد تمام الفاظ نے اپنی تاثیر کھو دی۔ تاشی یک لخت اسکے سارے جذبات بےرونق کر گئی۔ وہ کیا کرتا؟ بےوفائی کا علاج نہیں بس مرہم ہوتا ہے۔ اور یہی مرہم ڈھونڈنے وہ روز اس ہوٹل سے ملحقہ بار میں آ جاتا تھا۔ اور تب تک جام تنہائی اپنے اندر انڈیلتا جاتا جب تک ہوش و خرد سے بیگانہ نہ ہو جاتا۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔ ۔ ۔ ۔
دن بھر وہ اجنبی سے ملاقات کے بارے میں سوچتا رہا اور رات ہوتے ہی تاشی کا غم پھر سے اس کے سنگ تھا۔ نشے میں اس نے چلانا شروع کر دیا ۔”او تاشی تم مجھے کیوں چھوڑ کر چلی گئی۔ تم کہتی تھی نا کہ میاں بیوی دو ساز ہیں ۔ ۔ انکے تال میل سے ہی زندگی کا گیت سر بکھیرتا ہے تو پھر تم نے میرا گیت کیوں ادھورا چھوڑ دیا؟یہ دیکھو آج بھی میرے پاس وہ ٹشو پیپر محفوظ ہے جس پر تمہاری انگلی پر کٹ لگ جانے کیوجہ سے نکلنے والا خون محفوظ ہے۔ دیکھو دیکھو یہ دیکھو۔ جیب سے ٹشو پیپر نکال کر وہ ہسٹریائی انداز میں خود کلامی کرتا جا رہا تھا۔
۔ ۔ ۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔۔ ۔ ۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
تیسرے دن وہ جلدی جلدی تیار ہو کر ہوٹل جا پہنچا۔ اس دن نشے کی کیفیت میں اسے راستے صحیح سے یاد نہیں تھے اس لیے اسے پورا یقین تھا کہ وہ آدمی اسے ہوٹل میں مل جائے گا۔ اور اسکا یقین صحیح ثابت ہوا۔ ایک گھنٹے کے انتظار کے بعد اسے وہ آدمی دکھائی دے گیا۔ اس آدمی نے بھی اسے دیکھ کر اشارہ کیا۔ اور وہ اٹھ کر اس آدمی کے ساتھ چل پڑا۔ آج زآرعون نشے میں نہیں تھا سو اس آدمی سے اس دن جو بہت کچھ پوچھنا رہ گیا تھا وہ آج سارا کا سارا پوچھ لینا چاہتا تھا۔
سڑک پر اکا دکا لوگ ہی نظر آ رہے تھے۔ چلتے چلتے وہ آدمی اسی گلی میں جا کر رک گیا۔ زآرعون پھر سے پوچھنے ہی والا تھا کہ وہ آدمی کون ہے اور اس سے کیا چاہتا ہے؟ کہ وہ آدمی ہلکے سے مسکرایا اور بولا
“تمہیں بتایا تو تھا۔کہ میں ہیلر ہوں۔ کائنات کے شگاف مندل کرتا ہوں۔ ” زآرعون کا ہاتھ جیب کی طرف بڑھا جہاں اس نے احتیاطا آج اپنی گن چھپائی تھی۔ کہ اس آدمی نے کہا”فکر نہ کرو تمہیں اس گن کی ضرورت پیش نہیں آئے گی۔ آؤ میں تمہیں سب سمجھاتا ہوں” اس دفعہ تو زآرعون واقعی گڑبڑا گیا۔اجنبی کیسے جانتا تھا بھلا کہ اس کے پاس گن ہے ؟ اس آدمی نے بات جاری رکھتے ہوئےکہا
“یہ کائنات پرت در پرت اک راز ہے اور اس کائنات کا سب سے بڑا راز جانتے ہو کیا ہے؟ ” پھر جواب کا انتظار کیے بغیر ہی بولا۔ “سچ! اس کائنات کا سب سے بڑا راز سچ ہے۔ میرا سچ۔ تمہارا سچ۔ ۔ ہم سب کا سچ۔ ۔ ہر شے اور ہر چیز کا سچ۔ ۔ ۔ یہ کائنات انہیں سچائیوں سے مل کر بنی ہے۔ اور ہر سچ کی اپنی ہی اک سمت ہے اور اپنی ہی اک دنیا۔ ہزاروں سچ ایک جھرنے کی مانند ساتھ ساتھ بہتے ہیں۔لیکن تمہارا سچ وہی ہے جہاں تم موجود ہو ۔کسی کے ایک سچ میں جینے کا مطلب یہ ہے کہ اسکے لیے باقی سچ ساکت ہو جائیں گے۔ اس دنیا میں تاشی تمہیں چھوڑ کر جا چکی۔ مگر کسی اور دنیا میں وہ آج بھی تمہارے ساتھ رہتی ہے۔ اور اس سچ کو پانے کے لیے تمہیں یہ دنیا ساکت کرنی ہو گی۔ تبھی تم اس دنیا میں جا کر رہ پاؤ گے۔ جہاں تاشی اور تم آج بھی ایک ساتھ محبت بھری زندگی جی رہے ہو”
“یہ کیسے ممکن ہے بھلا؟”زآرعون حیرت اور تجسس میں ڈوبتا ہوا بولا تو اس آدمی نے جواب دیا۔
“ہر چیز کا ایک وقت ہے۔ ہر چیز اپنے مدار میں گھوم رہی ہے۔ وقت کا بھی اپنا ایک مدار ہے۔ لیکن کائنات میں جب بھی کوئی اتھل پتھل ہوتی ہے تو یہ وقت اپنے مدار سے ایک سکینڈ کے ہزارویں حصے سے پھسل جاتا یے۔ اور یہ حصے جمع ہوتے رہتے ہیں یہاں تک کہ ایک گھنٹہ جمع ہو جاتاہے۔ سچائی کی اس گھڑی میں تب ایک وقت کے لیے بارہ کے بعد تیرہ بجتے ہیں اور یہ تیرہ ہی دروازہ ہے سچائی میں سفر کرنے کا۔ ” اجنبی نے اپنی بات مکمل کی تو زآرعون جھٹ سے بولا”مگر میں ہی کیوں”؟
” کیونکہ یہاں تمہاری زندگی سچ نہیں جھوٹ ہے۔ تمہارے ہاتھ سے وقت پھسلا تو کائنات میں اک شگاف پڑ گیا۔اب تمہارے پاس ایک موقع آیا ہے اس دروازے کو پار کرنے کا۔ کیونکہ سچ تو یہ ہے کہ تاشی نے تمہیں تمہاری شراب نوشی کی کثرت سے تنگ آکر تمہیں چھوڑ دیا۔ نشے میں تم اس کے ساتھ کیا کرتے تھے تمہیں شاید یاد نہ ہو مگر وقت نے سب دیکھا۔ ۔ ۔ تمہارا ہوش جتنا محبت بھرا تھا تمہاری مدہوشی اتنی ہی اذیت ناک اور پر تشدد تھی اس کے لیے۔ اس لیے وہ تمہیں سمجھا سمجھا کر تھک گئی تو چھوڑ گئی۔لیکن تم اسے پھر سے دیکھ سکتے ہو۔،”
“کیا تم خدا ہو؟” زاردعون نے پوچھا۔
“نہیں۔خدا تو وہ ہے جو ہر جگہ موجود ہے۔میں تو بس تمہاری ایک سچائی کا ساتھی ہوں۔ خدا اس کائنات کا مالک ہے اور میں اس کائنات کی سچائیوں کا دروازہ۔وہ سامنے دیکھو گلی کے آخر میں اندھیرا اس میں سے گزر جاؤ۔ بظاہر اندھی گلی اس وقت دروازہ ہے دوسری دنیا کا۔ جاؤ کہ یہ تمہارے وقت کا تیرواں گھنٹا چل رہا ہے۔بس یاد رکھنا کہ وقت اپنے مدار میں گھوم کر واپس ضرور آتا ہے”
زآرعون لپک کر اس اندھیری سمت کی جانب مڑا۔جب اچانک اس کے کانوں میں اجنبی کی آخری آواز گونجی “وقت بہت بڑا مرہم ہے” گلی کی اندھیری سمت میں جا کر زآرعون دوسری طرف سے نکل آیا۔
۔۔۔ ۔۔۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔۔۔ ۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بظاہر سب کچھ ویسا ہی تھا۔ ۔ وہی جگہ وہی لوگ۔ ۔ وہی گلی۔ ۔ بس اُس دنیا کی وہ اندھی گلی واقعی دوسری طرف کھلتی تھی۔اور زآرعون اسی بات پر حیرت زدہ تھا۔ وہ سیدھا گھر واپس گیا ۔دروازہ بجایا تو حیرت کی انتہا نہ رہی کہ دروازہ تاشی نے ہی کھولا تھا۔ تاشی کچھ دیر تو اسے حیرت سے دیکھتی رہی پھر کچھ کہنے ہی لگی تھی کہ زآرعون نے اسکے منہ پر ہاتھ رکھ دیا “تاشی کچھ مت کہنا ۔میں تمہارا زآرعون۔ تمہاری خاطر میں ایک دنیا پار کر آیا ہوں۔تاکہ اس سچائی میں تمہارے ساتھ جی سکوں۔ ” اچانک پیچھے سے اسے آواز آئی۔ “تاشی حیرت سے کیا دیکھ رہی ہو دروازے پر۔ کون ہے وہاں”؟
معلوم نہیں۔ دروازہ کھولا تو کوئی بھی نہیں ہے۔ بس اچانک ہوا کا ایک ٹھنڈا سا جھونکا چہرے سے ٹکرایا تو جھرجھری سی آ گئی۔” تاشی کی اس بات پر حیرت سے اس نے دیکھا۔ ۔ تاشی کے پیچھے بھی وہی تو کھڑا تھا۔ ارے یہ کیا ؟ یہاں اسے کوئی دیکھ نہیں پا رہا تھا۔ اس نےسامنے سے دیکھا کہ پیچھے سے اسی نے آ کر تاشی کو بانہوں میں بھر لیا اور پیار سے بولا۔ ۔ “ارے میری تاشی! میں سمجھتا ہوں کہ میں تمہارا گنہگار ہوں۔مگر دیکھو میں نے خود کو بدل لیا ہے۔تمہارے ساتھ جو بھی زیادتیاں کی ہیں میں ان سب کا مداوا کروں گا۔ تمہارے سارے غم چن لوں گا۔ مگر مجھے موقع تو دو۔ میں جانتا ہوں کہ تم پوری طرح نہیں سنبھل پائیں ابھی مگر میں پوری کوشش کروں گا ۔مجھے تھوڑا وقت دو۔ وقت بہت بڑا مرہم یے۔ میں تمہارے سارے شگاف بھر دوں گا”تاشی اس کے گلے سے لگ گئی۔
وہ پیچھے ہٹ گیا اور تھکے تھکے قدموں سے واپس سڑک پر مڑ گیا۔اس بار اسے اپنی منزل معلوم تھی۔
۔ ۔ ۔ ۔۔۔ ۔۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
وہاں دوسری دنیا میں گلی میں بہت سے لوگ جمع تھے۔ سڑک پر ایک آدمی اوندھے منہ پڑا تھا۔ پولیس بھی جمع تھی اور ثبوت اکھٹے کیے جا رہے تھے۔ایک پولیس مین کے ہاتھ میں پلاسٹک کے ایک تھیلے میں خون آلود رومال تھا جس سے غالبا خون کی قے صاف کی گئی تھی ۔وجہِ موت کثرت سے شراب نوشی بتائی جا رہی تھی۔ کچھ لوگوں نے اسے آخری دفعہ سڑک پر خود سے باتیں کرتے ہوئے جاتے دیکھا تھا۔ لوگ باتیں کر رہے تھے تبھی ایک آدمی جو اسکا پڑوسی تھا بولا “ہم تو سمجھے تھے بچارہ سنبھل جائے گا۔ ٹائم از آ گریٹ ہیلر۔مگر بچارہ خود کو نہ سنبھال پایا اس غم سے اور مر گیا” پولیس نے اس آدمی کو سیدھا کیا تاکہ شناخت کی کاروائی مکمل ہو سکے۔ ۔ وہاں وہ اجنبی بے سدھ پڑا تھا۔

شاپنگ

عید کی شاپنگ کیلیے ضروری ہے کہ شوہر حضرات کو گھر چھوڑ کر انکے بٹوے کو ساتھ لے جایا جائے بصورتِ دیگر وہ خود ساتھ چلے آتے ہیں اور بٹوہ گھر بھول جانے کی اداکاری کرتے ہیں۔

لیکن اگر ہر ممکن تدبیر کے بعد بھی وہ شاپنگ پر آپکے ساتھ آنے کو بضد ہوں تو سارے شاپر پکڑنے کا کام انہی کے سپرد کریں۔
بوقتِ شاپنگ ہر دو منٹ بعد نظر مار کر اچھی طرح تسلی کر لیں کہ کہیں آپ کے بہانے ادھر ادھر چاتیاں تو نہیں مار رہے۔۔شاپنگ مال میں انہیں “مال” چیک کرنے کا موقع ہرگز نہ دیں۔
چلتے ہوئے انہیں آگے “لگا” کر خود پیچھے ٹہلتی آئیں۔ جب وہ تھوڑا آگے کو نکل جائیں تو جھٹ سے کسی دکان میں گھس جائیں جہاں آپ کو خریداری کرنے سے زیادہ خریداری دیکھنے میں دلچسپی ہے۔ گھنٹے دو گھنٹے بعد جب آپ دکان سے نکلیں گی تو وہ وہیں کہیں اتنی ہی شدت سے آپ کے منتظر ہوں گے جتنا آفس ٹائم ختم ہونے کے بعد آپ انکا سیدھا گھر آنے کی منتظر ہوتی ہیں۔ یوں بدلہ پورا ہونے کا یک گونہ سکون سا ملے گا۔
انکی کسی بات پر کان نہ دھریں۔ اس چیز کی کیا ضرورت ہے؟ یہ تو پہلے بھی تمہارے پاس ہے ۔۔اس کو لینے کا کیا فائدہ۔۔۔جیسی چالاکیاں صرف آپ کا ہاتھ روکنے کیلیے ہیں۔ کان دھرے بغیر جو جو نہیں چاہیے وہ بھی سامان میں ڈالتی جائیں۔
عید کا سوٹ سلیکٹ کرنے میں دقت پیش آ رہی ہو تو دو فائنل سوٹ انکے آگے رکھیں۔ پھر جو وہ پسند کریں۔۔۔بے فکر ہو کر دونوں ہی اٹھا لیں۔۔
گھر واپس آ کر ان پر الزام ڈال دیں کہ انہوں نے آپ کو اتنی شاپنگ سے روکا کیوں نہیں؟ جب وہ ہکے بکے آپ کو دیکھ رہے ہوں تب ساتھ ہی جو رہ گیا یا آپ بھول آئی ہیں وہ بھی بتا دیں۔اب آپ کل بھی اطمینان سے شاپنگ پر جا سکتی ہیں اور اس دفعہ وہ گھر پر ہی رہیں گے۔۔۔

یارانہ

شیطان محترم ہمارے انتہائی قریبی شمار ہوتے ہیں۔اس قدر چالاک طبعیت پائی ہے کہ ہر رمضان قید ہونے کے ڈر سے پہلے ہی نیک بہروپ بھر لیتے ہیں۔ یوں تو ہر رمضان نیکی کا خاص اہتمام کرتے ہیں۔ دورانِ فاقہ کوئی بھی فحش چیز دیکھنے سے پہلے آنکھوں پر عینک لگا لیتے ہیں تا کہ پردہ حائل رہے۔تمام غلط کام عبرت کی نیت سے جاری رکھتے ہیں۔ اور یہ سوچ کر لگائی بجھائی کے زریعے لوگوں کے دلوں میں آگ بھڑکاتے رہتے ہیں کہ لوگوں کو آتشِ جہنم یاد رہے ۔

اس کے علاوہ اگر ان سے روزے کی بابت پوچھا جائے تو اسے جسم کی “بھوک” سے تشبیہہ دیتے ہیں۔ فرقے سے “سنی” لیون کو ہی مستند مانتے ہیں۔۔۔ لہذا اوقات افطار میں قتلے اور قتالہ دونوں انتہائ شوق سے نوش فرمانے کی حسرت رکھتے ہیں۔
انکی چندھیا پر موجود چکناہٹ کی وجہ سے خواتین البتہ ڈائٹنگ کے چکر میں ان سے شدید پرہیز کرتی ہیں۔۔
قبل از رمضان پیرومرشد حضرت شیطان سے ملاقات ہوئی تو انکا “پرِی رمضان” حلیہ دیکھ کر ہمارے رونگٹے کھڑے ہو گئے۔ ہاتھ میں تسبیح۔۔انگلی میں عقیق جَڑی انگوٹھی اور سر پر تیل لگا کر چمکائی گئی چندھیا پر سلیقے سے چپکائی گئی جھالر۔۔۔

انکے اس نئے حلیے کی بابت پتہ چلا کہ پیری مریدی کی نئی لت لگائے بیٹھے ہیں۔۔
علم کی “اٹھان” کا یہ عالم تھا کہ ستاروں کی چال دیکھ کر بندے کی چڈی کا رنگ بتائے دے رہے تھے۔۔
وہ تو ہم نے ٹوکا کہ اس بات کا تعلق ستاروں کی چال سے کم اور انکے اپنے چال چلن سے زیادہ ہے۔
اسی روک ٹوک کی نسبت موذیِ وقار کا ہمارے بارے میں کچھ زیادہ نیگ گمان نہیں۔
کسی خاتون سے پوچھ بیٹھے کہ آپ کا برج کیا ہے؟ جواب آیا حمل تو جھٹ سے بولے کیفیت نہیں برج کا پرچھا ہے۔ اسی کیفیتِ کوکین میں بروج کا گیان بانٹتے ہوئے ہم پر انکشاف کر بیٹھے کہ “ہم سئور ہیں سور”۔ انکو ٹوکا کہ ثور ہوتا ہے تو کہنے لگے بیٹا یہ اپنے اپنے اعمال پر ڈیپینڈ کرتا ہے۔ لہذا انکی لیاقت کو دیکھتے ہوئے انہیں اول الذکر ہی لکھا اور بلایا جائے۔

فرنچوبیا

ہمارے ایک دوست کو فرنچ تہذیب اس قدر بھائی کہ ہر فرنچ چیز پر عبور حاصل کرنے کی جستجو میں نکل پڑے ۔ یہی لگن انہیں فرنچ ٹوسٹ سیکھنے کا بہانہ لے کر فرنچ پڑوسن کے دروازے تک لے گئی۔مگر اس فرنگن کے بوائے فرینڈ کی وجہ سے انہیں اپنے “فرنچ خیال” کو گندے افعال کا زیر جامہ پہنانے کا موقع تک نہ مل سکا اور ناکام ہی لوٹنا پڑا۔

مگر جذبہ ماند نہ پڑا۔ چند ہی دن میں فرنچ کٹ داڑھی رکھ لی اور فرنچ سیکھنے کی آرزو نے دل میں جنم لے لیا۔
“انکے خیال میں فرنچ سیکھنا بہت آسان ہے ۔ ایک “اخخ کہنے سے انسان کو آدھی فرنچ پر عبور حاصل ہو جاتا ہے اور ہمارے نزدیک اتنا سر کھپانے کی بجائے ایک آخخ تھو کر کے پوری زبان سے محروم رہ جانا زیادہ آسان ھے۔۔
خیر اپنے تئیں آدھی فرنچ سیکھ کر ہمارے پاس چلے آئے ۔ بولے یار فرنگن کو ایک خط لکھنے میں مدد تو کر دے۔ کہ آدھے آدھے جذبات ڈال کر فرنگن کو پوری آگ لگا دیں گے۔

“تو پیٹرول لے جاؤ. جذبات بھرا صحفہ ضائع کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ ” ہم نے اپنے تئیں خالص دیسی مشورہ دیا تو ہمیں گھور کر انہوں نے لکھنا شروع کیا “اخخ اخ خی خی خو خو”
میں نے پوچھا “یہ کیا لکھا ہے؟”
بڑے رسان سے بولے “آئی لو یو”
ہیں؟ ؟؟ یہ فرنچ پڑوسن کو بولنا ہے یا کسی بندریا کو ۔ ۔ ناراض ہو کر کہنے لگے ہٹو میں خود ہی پورا لکھ لوں گا۔
خیر اللہ جانے کیا الا بلا لکھ کر کہنے لگے کہ دستخط کر دیجیے۔ بھلے وقتوں میں آپ کے ہاتھ سے لاٹری کا فارم بھروایا تھا۔ خدا کے کرم سے کبھی نہیں نکلی۔ لہذا خط کے آخر میں آپکے دستخط کرنے سے اس فرنگن کے دل سے ہمارا خیال کبھی نہیں نکلے گا۔ ہم نےفاخرانہ انداز میں کاغذ پکڑا اور انکے نام کے دستخط کر دیے۔ دیکھ کر بولے “ہیں؟ ہمارے نام کا “مِیم” اس گوری میم کے مسٹنڈے بوائے فرینڈ کے لیے رکھ چھوڑا کیا؟ یہ کیا خالی “خر” لکھ دیا ہے۔ ”
ہم نے کہا بے فکر رہیے گھوم پھر کر آپکی ہی تشریح کی ہے۔

بدلہ

نوجوانی بذاتِ خود ایک رومان پرور احساس ہے۔ اور اس پر رومانی رشتے بھی میسر ہوں تو مزہ دوبالا سا ہو جاتا ہے۔

پہلے زمانے میں سب لڑکیاں ایک ہی منگیتر سے کام چلا لیتی تھیں ۔
کسی ایک کے منگیتر کو “ڈیل” کرنے کے جو مشورے زبردستی سہیلی کے کانوں میں انڈیلے جاتے ۔۔منگیتر کو بھی لگ پتہ جاتا تھا کہ پوری کے ساتھ ساتھ آدھی گھر والیوں کو بھی خوش رکھنا بے حد ضروری ہے۔ ۔۔ ورنہ جانو کی ناراضگی مول لینے کا شدید خطرہ ہے۔
ہماری ایک دوست کی بھی نئی نئی منگنی ہوئی۔ اور منگیتر بھی امریکہ پذیر ۔۔۔۔۔ ایک تو موصوف لائق فائق اوپر سے ایسی ٹھیٹھ انگریزی کہ کئی دفعہ تو باقاعدہ ڈکشنری دیکھنی پڑتی تھی۔
بس جناب اب سب نے “پاکستان بمقابلہ امریکہ ” ایک جنگ سی شروع کر لی کہ وہ رہتے ہیں امریکہ تو ہوں گے مگر ہم پاکستانی بھی کسی سے کم نہیں…

ایک دن انگریزی کے تابڑ توڑ حملوں کے بعد ہم سے رہا نہ گیا۔۔ہم نے دوست کا فون اٹھایا اور منگیتر کو میسج لکھا
” silver clouds are floating on the sky, i can feel the cool breeze.The Birds are chirping, ducks are swimming in the pond and cattles are grazing in the field. Its raining cats and dogs but u r not here so all in vain.”

آخر کیا سمجھتے ہیں وہ ۔۔۔انگریزی میں میسج کریں گے تو
ایسا ہی انگلش B والا جواب دیں گے کرارا۔۔۔
منگیتر صاحب نے جانو کی انگریزی سے غالبا امپریس ہوتے ہوئے فون کیا مگر سہیلی صاحبہ کو معلوم بھی نہ تھا کہ ہم کیا گل کھلا چکے۔ادھر “u r not here so all in vain” کا اثر اتنا گہرا تھا کہ سرشاری کے عالم میں منگیتر صاحب بولے کہ سوچ سمجھ کر پرفیکٹ سائز بتایا جائے تاکہ امپورٹڈ گفٹ لا سکیں۔۔۔ہماری سہیلی نے بغیر سوچے سمجھے جوتے کا سائز بتا دیا اور کہا کہ اگلی دفعہ صحفے پر پاؤں رکھ کر ڈرائنگ کر کے جوتے کی تصویر انہیں بھیجیں گی تاکہ سائز میں کوئی مسلہ نہ ہو۔ 😎