تیرھواں گھنٹہ

پچھلے چار پانچ دن سے وہ اضطراب سا محسوس کر رہا تھا۔ ایک عجیب سی بے چینی اور احساس اسے گھیر لیتا۔ ایسے لگتا جیسے دو آنکھیں اسکا تعاقب کر رہی ہیں۔ وہ ادھر ادھر دیکھتا مگر ہجوم میں سمجھ نہ پاتا کہ کس کی آنکھیں اسکا طواف کر رہی ہیں۔ آج تو اس نے پی بی کم تھی۔ ہلکے ہلکے سرور میں اچانک اسکی نگاہ ایک آدمی پر پڑی جو بظاہر سب سے لاتعلق دور کھڑا نیچے زمین پر اپنے جوتوں کو گھور رہا تھا۔پھر اس نے نیچے بیٹھ کر جوتوں سے کچھ جھاڑنا شروع کر دیا۔ زآرعون اٹھا اور ایک انجانے سے جذبے کے زیر اثر اس کی طرف کھچتا چلا گیا۔ اس آدمی نے نظر اٹھا کر دیکھا اور مسکراتے ہوئے بولا “ہیلو ینگ مین ! تو تم نے مجھے ڈھونڈ ہی لیا۔ “کون ہو تم؟” زآرعون بولا
“مددگارہوں تمہارا” اس آدمی نے متانت سے جواب دیا۔لیکن زآرعون سنی ان سنی کرتے ہوئے بولا۔
“تم مجھے گھور کیوں رہے تھے اتنے دنوں سے؟”
“میرے پیچھے آؤ ۔سب بتاتا ہوں”
اور ہلکے ہلکے سرور میں ڈوبا زآرعون اسکے پیچھے چل پڑا۔ ہوٹل سے نکل کر دونوں سڑک پر آ گئے۔ کئی گلیاں اور موڑ مڑنے کے بعد وہ آدمی اسے ایک اندھی گلی میں لے آیا جہاں نسبتا اندھیرا تھا۔ زآرعون نشے میں تھا لیکن ابھی اتنا بھی بیگانہ نہ ہوا تھا کہ اسکا ماتھا نہ ٹھنک جاتا
” کون ہو تم؟ کیا چاہتے ہو؟ میرے پاس کوئی رقم نہیں جسے تم لوٹنا چاہتے ہو۔”
اس آدمی نے زآرعون کی بات پر کوئی ردعمل نہ ظاہر کیا اور دھیمے سے بولا۔
“میں ‘ہیلر'(healer) ہوں۔ کائنات کے شگاف بھرتا ہوں۔ ”
اسکی بات زآرعون کو مضحکہ خیز لگی اور اب کی بار وہ نسبتاً لڑکھڑاتے ہوئے بولا۔ ۔ “دوست میں دل کے شگاف نہیں بھر پا رہا اور تم کائنات کے شگاف بھر رہے ہو۔ واہ ”
” تم چاہو تو میں تمہاری مدد کر سکتا ہوں” اجنبی بولا۔
“کیسی مدد؟تم کیا جانو مجھے کیا چاہیے۔؟”زآرعون نے تنک کر کہا۔
“تمہیں تاشی کا ساتھ واپس چاہیے”
زآرعون نشے ، حیرانی اور شک کی کیفیات کے بیچ ڈول گیا۔اور خالی خالی نظروں سے اس آدمی کو گھورنے لگا۔اس آدمی نے اپنی بات جاری رکھی” اگر تمہیں میری مدد چاہیے تو ٹھیک دو دن بعد یہیں ملنا” اور اسکے بعد لمبے لمبے ڈگ بھرتا ہوا نظروں سے اوجھل ہو گیا۔ اسکے بعد زآرعون کو کچھ ہوش نہ رہا۔ آنکھ کھلی تو خود کو بستر پر پایا۔ ذہن پر زور دینے کے باوجود اسے کچھ یاد نہ تھا کہ وہ گھر کیسے پہنچا؟ لیکن اس آدمی سے ملاقات کا حرف بحرف اسے یاد تھا۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔ ۔۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔۔۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔
کیا نہیں تھا اسکے پاس؟ سب کچھ تو تھا۔ بس ایک دل ہی نہ تھا پہلو میں. نہیں نہیں دل بھی تھا۔ مگر اس دل میں حرارت نہیں تھی ۔ ۔ ۔ جذبات کی۔ ۔ ایسے دل کو بنجر دل کہنا ٹھیک ہو گا۔لیکن یہ دل ہمیشہ سے بنجر نہیں تھا۔کبھی اس میں محبت کی ہریالی تھی۔ جذبات کی مہک تھی اور لاتعداد شگوفے تھے جو تاشی کو دیکھتے ہی ایک نہ سنائی دینے والی ‘پٹک’ کے ساتھ پھوٹ پڑتے۔ تاشی کے سنگ زندگی اتنی حسین تھی کہ مستقبل کے سنہرے سپنوں میں گم روشن حال کی رعنائیاں سمیٹتے ہوئے اسے معلوم ہی نہ پڑا کہ کب اسکی دنیا اچانک درہم برہم ہو گئی۔ تاشی نے طلاق مانگی تھی۔
“مجھے تم سے طلاق چاہیے۔ میں تمہارے ساتھ مزید گزارا نہیں کر سکتی۔” یہ الفاظ نہیں بم تھے اور اس کے منہ سے بس اتنا ہی نکلا “کیا؟؟” حالانکہ وہ “کیوں؟” کہنا چاہتا تھا۔ مگر اس کیوں کی گتھی بھی تاشی نے خود ہی سلجھا دی۔ “دیکھو زآرعون ۔ہم ایک دوسرے کے لیے نہیں بنے۔ جانتے ہو میں تم سے کہتی تھی کہ میاں بیوی پزل کے دو ٹکڑے ہوتے ہیں۔ ایک کی کمی کو دوسرا پورا کرتا ہے مگر تمہارے پاس ایسا کوئی ٹکڑا نہیں جو میرے خلا کو بھر سکے۔ ”
اور اسکے بعد تمام الفاظ نے اپنی تاثیر کھو دی۔ تاشی یک لخت اسکے سارے جذبات بےرونق کر گئی۔ وہ کیا کرتا؟ بےوفائی کا علاج نہیں بس مرہم ہوتا ہے۔ اور یہی مرہم ڈھونڈنے وہ روز اس ہوٹل سے ملحقہ بار میں آ جاتا تھا۔ اور تب تک جام تنہائی اپنے اندر انڈیلتا جاتا جب تک ہوش و خرد سے بیگانہ نہ ہو جاتا۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔ ۔ ۔ ۔
دن بھر وہ اجنبی سے ملاقات کے بارے میں سوچتا رہا اور رات ہوتے ہی تاشی کا غم پھر سے اس کے سنگ تھا۔ نشے میں اس نے چلانا شروع کر دیا ۔”او تاشی تم مجھے کیوں چھوڑ کر چلی گئی۔ تم کہتی تھی نا کہ میاں بیوی دو ساز ہیں ۔ ۔ انکے تال میل سے ہی زندگی کا گیت سر بکھیرتا ہے تو پھر تم نے میرا گیت کیوں ادھورا چھوڑ دیا؟یہ دیکھو آج بھی میرے پاس وہ ٹشو پیپر محفوظ ہے جس پر تمہاری انگلی پر کٹ لگ جانے کیوجہ سے نکلنے والا خون محفوظ ہے۔ دیکھو دیکھو یہ دیکھو۔ جیب سے ٹشو پیپر نکال کر وہ ہسٹریائی انداز میں خود کلامی کرتا جا رہا تھا۔
۔ ۔ ۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔۔ ۔ ۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
تیسرے دن وہ جلدی جلدی تیار ہو کر ہوٹل جا پہنچا۔ اس دن نشے کی کیفیت میں اسے راستے صحیح سے یاد نہیں تھے اس لیے اسے پورا یقین تھا کہ وہ آدمی اسے ہوٹل میں مل جائے گا۔ اور اسکا یقین صحیح ثابت ہوا۔ ایک گھنٹے کے انتظار کے بعد اسے وہ آدمی دکھائی دے گیا۔ اس آدمی نے بھی اسے دیکھ کر اشارہ کیا۔ اور وہ اٹھ کر اس آدمی کے ساتھ چل پڑا۔ آج زآرعون نشے میں نہیں تھا سو اس آدمی سے اس دن جو بہت کچھ پوچھنا رہ گیا تھا وہ آج سارا کا سارا پوچھ لینا چاہتا تھا۔
سڑک پر اکا دکا لوگ ہی نظر آ رہے تھے۔ چلتے چلتے وہ آدمی اسی گلی میں جا کر رک گیا۔ زآرعون پھر سے پوچھنے ہی والا تھا کہ وہ آدمی کون ہے اور اس سے کیا چاہتا ہے؟ کہ وہ آدمی ہلکے سے مسکرایا اور بولا
“تمہیں بتایا تو تھا۔کہ میں ہیلر ہوں۔ کائنات کے شگاف مندل کرتا ہوں۔ ” زآرعون کا ہاتھ جیب کی طرف بڑھا جہاں اس نے احتیاطا آج اپنی گن چھپائی تھی۔ کہ اس آدمی نے کہا”فکر نہ کرو تمہیں اس گن کی ضرورت پیش نہیں آئے گی۔ آؤ میں تمہیں سب سمجھاتا ہوں” اس دفعہ تو زآرعون واقعی گڑبڑا گیا۔اجنبی کیسے جانتا تھا بھلا کہ اس کے پاس گن ہے ؟ اس آدمی نے بات جاری رکھتے ہوئےکہا
“یہ کائنات پرت در پرت اک راز ہے اور اس کائنات کا سب سے بڑا راز جانتے ہو کیا ہے؟ ” پھر جواب کا انتظار کیے بغیر ہی بولا۔ “سچ! اس کائنات کا سب سے بڑا راز سچ ہے۔ میرا سچ۔ تمہارا سچ۔ ۔ ہم سب کا سچ۔ ۔ ہر شے اور ہر چیز کا سچ۔ ۔ ۔ یہ کائنات انہیں سچائیوں سے مل کر بنی ہے۔ اور ہر سچ کی اپنی ہی اک سمت ہے اور اپنی ہی اک دنیا۔ ہزاروں سچ ایک جھرنے کی مانند ساتھ ساتھ بہتے ہیں۔لیکن تمہارا سچ وہی ہے جہاں تم موجود ہو ۔کسی کے ایک سچ میں جینے کا مطلب یہ ہے کہ اسکے لیے باقی سچ ساکت ہو جائیں گے۔ اس دنیا میں تاشی تمہیں چھوڑ کر جا چکی۔ مگر کسی اور دنیا میں وہ آج بھی تمہارے ساتھ رہتی ہے۔ اور اس سچ کو پانے کے لیے تمہیں یہ دنیا ساکت کرنی ہو گی۔ تبھی تم اس دنیا میں جا کر رہ پاؤ گے۔ جہاں تاشی اور تم آج بھی ایک ساتھ محبت بھری زندگی جی رہے ہو”
“یہ کیسے ممکن ہے بھلا؟”زآرعون حیرت اور تجسس میں ڈوبتا ہوا بولا تو اس آدمی نے جواب دیا۔
“ہر چیز کا ایک وقت ہے۔ ہر چیز اپنے مدار میں گھوم رہی ہے۔ وقت کا بھی اپنا ایک مدار ہے۔ لیکن کائنات میں جب بھی کوئی اتھل پتھل ہوتی ہے تو یہ وقت اپنے مدار سے ایک سکینڈ کے ہزارویں حصے سے پھسل جاتا یے۔ اور یہ حصے جمع ہوتے رہتے ہیں یہاں تک کہ ایک گھنٹہ جمع ہو جاتاہے۔ سچائی کی اس گھڑی میں تب ایک وقت کے لیے بارہ کے بعد تیرہ بجتے ہیں اور یہ تیرہ ہی دروازہ ہے سچائی میں سفر کرنے کا۔ ” اجنبی نے اپنی بات مکمل کی تو زآرعون جھٹ سے بولا”مگر میں ہی کیوں”؟
” کیونکہ یہاں تمہاری زندگی سچ نہیں جھوٹ ہے۔ تمہارے ہاتھ سے وقت پھسلا تو کائنات میں اک شگاف پڑ گیا۔اب تمہارے پاس ایک موقع آیا ہے اس دروازے کو پار کرنے کا۔ کیونکہ سچ تو یہ ہے کہ تاشی نے تمہیں تمہاری شراب نوشی کی کثرت سے تنگ آکر تمہیں چھوڑ دیا۔ نشے میں تم اس کے ساتھ کیا کرتے تھے تمہیں شاید یاد نہ ہو مگر وقت نے سب دیکھا۔ ۔ ۔ تمہارا ہوش جتنا محبت بھرا تھا تمہاری مدہوشی اتنی ہی اذیت ناک اور پر تشدد تھی اس کے لیے۔ اس لیے وہ تمہیں سمجھا سمجھا کر تھک گئی تو چھوڑ گئی۔لیکن تم اسے پھر سے دیکھ سکتے ہو۔،”
“کیا تم خدا ہو؟” زاردعون نے پوچھا۔
“نہیں۔خدا تو وہ ہے جو ہر جگہ موجود ہے۔میں تو بس تمہاری ایک سچائی کا ساتھی ہوں۔ خدا اس کائنات کا مالک ہے اور میں اس کائنات کی سچائیوں کا دروازہ۔وہ سامنے دیکھو گلی کے آخر میں اندھیرا اس میں سے گزر جاؤ۔ بظاہر اندھی گلی اس وقت دروازہ ہے دوسری دنیا کا۔ جاؤ کہ یہ تمہارے وقت کا تیرواں گھنٹا چل رہا ہے۔بس یاد رکھنا کہ وقت اپنے مدار میں گھوم کر واپس ضرور آتا ہے”
زآرعون لپک کر اس اندھیری سمت کی جانب مڑا۔جب اچانک اس کے کانوں میں اجنبی کی آخری آواز گونجی “وقت بہت بڑا مرہم ہے” گلی کی اندھیری سمت میں جا کر زآرعون دوسری طرف سے نکل آیا۔
۔۔۔ ۔۔۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔۔۔ ۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بظاہر سب کچھ ویسا ہی تھا۔ ۔ وہی جگہ وہی لوگ۔ ۔ وہی گلی۔ ۔ بس اُس دنیا کی وہ اندھی گلی واقعی دوسری طرف کھلتی تھی۔اور زآرعون اسی بات پر حیرت زدہ تھا۔ وہ سیدھا گھر واپس گیا ۔دروازہ بجایا تو حیرت کی انتہا نہ رہی کہ دروازہ تاشی نے ہی کھولا تھا۔ تاشی کچھ دیر تو اسے حیرت سے دیکھتی رہی پھر کچھ کہنے ہی لگی تھی کہ زآرعون نے اسکے منہ پر ہاتھ رکھ دیا “تاشی کچھ مت کہنا ۔میں تمہارا زآرعون۔ تمہاری خاطر میں ایک دنیا پار کر آیا ہوں۔تاکہ اس سچائی میں تمہارے ساتھ جی سکوں۔ ” اچانک پیچھے سے اسے آواز آئی۔ “تاشی حیرت سے کیا دیکھ رہی ہو دروازے پر۔ کون ہے وہاں”؟
معلوم نہیں۔ دروازہ کھولا تو کوئی بھی نہیں ہے۔ بس اچانک ہوا کا ایک ٹھنڈا سا جھونکا چہرے سے ٹکرایا تو جھرجھری سی آ گئی۔” تاشی کی اس بات پر حیرت سے اس نے دیکھا۔ ۔ تاشی کے پیچھے بھی وہی تو کھڑا تھا۔ ارے یہ کیا ؟ یہاں اسے کوئی دیکھ نہیں پا رہا تھا۔ اس نےسامنے سے دیکھا کہ پیچھے سے اسی نے آ کر تاشی کو بانہوں میں بھر لیا اور پیار سے بولا۔ ۔ “ارے میری تاشی! میں سمجھتا ہوں کہ میں تمہارا گنہگار ہوں۔مگر دیکھو میں نے خود کو بدل لیا ہے۔تمہارے ساتھ جو بھی زیادتیاں کی ہیں میں ان سب کا مداوا کروں گا۔ تمہارے سارے غم چن لوں گا۔ مگر مجھے موقع تو دو۔ میں جانتا ہوں کہ تم پوری طرح نہیں سنبھل پائیں ابھی مگر میں پوری کوشش کروں گا ۔مجھے تھوڑا وقت دو۔ وقت بہت بڑا مرہم یے۔ میں تمہارے سارے شگاف بھر دوں گا”تاشی اس کے گلے سے لگ گئی۔
وہ پیچھے ہٹ گیا اور تھکے تھکے قدموں سے واپس سڑک پر مڑ گیا۔اس بار اسے اپنی منزل معلوم تھی۔
۔ ۔ ۔ ۔۔۔ ۔۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
وہاں دوسری دنیا میں گلی میں بہت سے لوگ جمع تھے۔ سڑک پر ایک آدمی اوندھے منہ پڑا تھا۔ پولیس بھی جمع تھی اور ثبوت اکھٹے کیے جا رہے تھے۔ایک پولیس مین کے ہاتھ میں پلاسٹک کے ایک تھیلے میں خون آلود رومال تھا جس سے غالبا خون کی قے صاف کی گئی تھی ۔وجہِ موت کثرت سے شراب نوشی بتائی جا رہی تھی۔ کچھ لوگوں نے اسے آخری دفعہ سڑک پر خود سے باتیں کرتے ہوئے جاتے دیکھا تھا۔ لوگ باتیں کر رہے تھے تبھی ایک آدمی جو اسکا پڑوسی تھا بولا “ہم تو سمجھے تھے بچارہ سنبھل جائے گا۔ ٹائم از آ گریٹ ہیلر۔مگر بچارہ خود کو نہ سنبھال پایا اس غم سے اور مر گیا” پولیس نے اس آدمی کو سیدھا کیا تاکہ شناخت کی کاروائی مکمل ہو سکے۔ ۔ وہاں وہ اجنبی بے سدھ پڑا تھا۔

Advertisements

شاپنگ

عید کی شاپنگ کیلیے ضروری ہے کہ شوہر حضرات کو گھر چھوڑ کر انکے بٹوے کو ساتھ لے جایا جائے بصورتِ دیگر وہ خود ساتھ چلے آتے ہیں اور بٹوہ گھر بھول جانے کی اداکاری کرتے ہیں۔

لیکن اگر ہر ممکن تدبیر کے بعد بھی وہ شاپنگ پر آپکے ساتھ آنے کو بضد ہوں تو سارے شاپر پکڑنے کا کام انہی کے سپرد کریں۔
بوقتِ شاپنگ ہر دو منٹ بعد نظر مار کر اچھی طرح تسلی کر لیں کہ کہیں آپ کے بہانے ادھر ادھر چاتیاں تو نہیں مار رہے۔۔شاپنگ مال میں انہیں “مال” چیک کرنے کا موقع ہرگز نہ دیں۔
چلتے ہوئے انہیں آگے “لگا” کر خود پیچھے ٹہلتی آئیں۔ جب وہ تھوڑا آگے کو نکل جائیں تو جھٹ سے کسی دکان میں گھس جائیں جہاں آپ کو خریداری کرنے سے زیادہ خریداری دیکھنے میں دلچسپی ہے۔ گھنٹے دو گھنٹے بعد جب آپ دکان سے نکلیں گی تو وہ وہیں کہیں اتنی ہی شدت سے آپ کے منتظر ہوں گے جتنا آفس ٹائم ختم ہونے کے بعد آپ انکا سیدھا گھر آنے کی منتظر ہوتی ہیں۔ یوں بدلہ پورا ہونے کا یک گونہ سکون سا ملے گا۔
انکی کسی بات پر کان نہ دھریں۔ اس چیز کی کیا ضرورت ہے؟ یہ تو پہلے بھی تمہارے پاس ہے ۔۔اس کو لینے کا کیا فائدہ۔۔۔جیسی چالاکیاں صرف آپ کا ہاتھ روکنے کیلیے ہیں۔ کان دھرے بغیر جو جو نہیں چاہیے وہ بھی سامان میں ڈالتی جائیں۔
عید کا سوٹ سلیکٹ کرنے میں دقت پیش آ رہی ہو تو دو فائنل سوٹ انکے آگے رکھیں۔ پھر جو وہ پسند کریں۔۔۔بے فکر ہو کر دونوں ہی اٹھا لیں۔۔
گھر واپس آ کر ان پر الزام ڈال دیں کہ انہوں نے آپ کو اتنی شاپنگ سے روکا کیوں نہیں؟ جب وہ ہکے بکے آپ کو دیکھ رہے ہوں تب ساتھ ہی جو رہ گیا یا آپ بھول آئی ہیں وہ بھی بتا دیں۔اب آپ کل بھی اطمینان سے شاپنگ پر جا سکتی ہیں اور اس دفعہ وہ گھر پر ہی رہیں گے۔۔۔

یارانہ

شیطان محترم ہمارے انتہائی قریبی شمار ہوتے ہیں۔اس قدر چالاک طبعیت پائی ہے کہ ہر رمضان قید ہونے کے ڈر سے پہلے ہی نیک بہروپ بھر لیتے ہیں۔ یوں تو ہر رمضان نیکی کا خاص اہتمام کرتے ہیں۔ دورانِ فاقہ کوئی بھی فحش چیز دیکھنے سے پہلے آنکھوں پر عینک لگا لیتے ہیں تا کہ پردہ حائل رہے۔تمام غلط کام عبرت کی نیت سے جاری رکھتے ہیں۔ اور یہ سوچ کر لگائی بجھائی کے زریعے لوگوں کے دلوں میں آگ بھڑکاتے رہتے ہیں کہ لوگوں کو آتشِ جہنم یاد رہے ۔

اس کے علاوہ اگر ان سے روزے کی بابت پوچھا جائے تو اسے جسم کی “بھوک” سے تشبیہہ دیتے ہیں۔ فرقے سے “سنی” لیون کو ہی مستند مانتے ہیں۔۔۔ لہذا اوقات افطار میں قتلے اور قتالہ دونوں انتہائ شوق سے نوش فرمانے کی حسرت رکھتے ہیں۔
انکی چندھیا پر موجود چکناہٹ کی وجہ سے خواتین البتہ ڈائٹنگ کے چکر میں ان سے شدید پرہیز کرتی ہیں۔۔
قبل از رمضان پیرومرشد حضرت شیطان سے ملاقات ہوئی تو انکا “پرِی رمضان” حلیہ دیکھ کر ہمارے رونگٹے کھڑے ہو گئے۔ ہاتھ میں تسبیح۔۔انگلی میں عقیق جَڑی انگوٹھی اور سر پر تیل لگا کر چمکائی گئی چندھیا پر سلیقے سے چپکائی گئی جھالر۔۔۔

انکے اس نئے حلیے کی بابت پتہ چلا کہ پیری مریدی کی نئی لت لگائے بیٹھے ہیں۔۔
علم کی “اٹھان” کا یہ عالم تھا کہ ستاروں کی چال دیکھ کر بندے کی چڈی کا رنگ بتائے دے رہے تھے۔۔
وہ تو ہم نے ٹوکا کہ اس بات کا تعلق ستاروں کی چال سے کم اور انکے اپنے چال چلن سے زیادہ ہے۔
اسی روک ٹوک کی نسبت موذیِ وقار کا ہمارے بارے میں کچھ زیادہ نیگ گمان نہیں۔
کسی خاتون سے پوچھ بیٹھے کہ آپ کا برج کیا ہے؟ جواب آیا حمل تو جھٹ سے بولے کیفیت نہیں برج کا پرچھا ہے۔ اسی کیفیتِ کوکین میں بروج کا گیان بانٹتے ہوئے ہم پر انکشاف کر بیٹھے کہ “ہم سئور ہیں سور”۔ انکو ٹوکا کہ ثور ہوتا ہے تو کہنے لگے بیٹا یہ اپنے اپنے اعمال پر ڈیپینڈ کرتا ہے۔ لہذا انکی لیاقت کو دیکھتے ہوئے انہیں اول الذکر ہی لکھا اور بلایا جائے۔

فرنچوبیا

ہمارے ایک دوست کو فرنچ تہذیب اس قدر بھائی کہ ہر فرنچ چیز پر عبور حاصل کرنے کی جستجو میں نکل پڑے ۔ یہی لگن انہیں فرنچ ٹوسٹ سیکھنے کا بہانہ لے کر فرنچ پڑوسن کے دروازے تک لے گئی۔مگر اس فرنگن کے بوائے فرینڈ کی وجہ سے انہیں اپنے “فرنچ خیال” کو گندے افعال کا زیر جامہ پہنانے کا موقع تک نہ مل سکا اور ناکام ہی لوٹنا پڑا۔

مگر جذبہ ماند نہ پڑا۔ چند ہی دن میں فرنچ کٹ داڑھی رکھ لی اور فرنچ سیکھنے کی آرزو نے دل میں جنم لے لیا۔
“انکے خیال میں فرنچ سیکھنا بہت آسان ہے ۔ ایک “اخخ کہنے سے انسان کو آدھی فرنچ پر عبور حاصل ہو جاتا ہے اور ہمارے نزدیک اتنا سر کھپانے کی بجائے ایک آخخ تھو کر کے پوری زبان سے محروم رہ جانا زیادہ آسان ھے۔۔
خیر اپنے تئیں آدھی فرنچ سیکھ کر ہمارے پاس چلے آئے ۔ بولے یار فرنگن کو ایک خط لکھنے میں مدد تو کر دے۔ کہ آدھے آدھے جذبات ڈال کر فرنگن کو پوری آگ لگا دیں گے۔

“تو پیٹرول لے جاؤ. جذبات بھرا صحفہ ضائع کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ ” ہم نے اپنے تئیں خالص دیسی مشورہ دیا تو ہمیں گھور کر انہوں نے لکھنا شروع کیا “اخخ اخ خی خی خو خو”
میں نے پوچھا “یہ کیا لکھا ہے؟”
بڑے رسان سے بولے “آئی لو یو”
ہیں؟ ؟؟ یہ فرنچ پڑوسن کو بولنا ہے یا کسی بندریا کو ۔ ۔ ناراض ہو کر کہنے لگے ہٹو میں خود ہی پورا لکھ لوں گا۔
خیر اللہ جانے کیا الا بلا لکھ کر کہنے لگے کہ دستخط کر دیجیے۔ بھلے وقتوں میں آپ کے ہاتھ سے لاٹری کا فارم بھروایا تھا۔ خدا کے کرم سے کبھی نہیں نکلی۔ لہذا خط کے آخر میں آپکے دستخط کرنے سے اس فرنگن کے دل سے ہمارا خیال کبھی نہیں نکلے گا۔ ہم نےفاخرانہ انداز میں کاغذ پکڑا اور انکے نام کے دستخط کر دیے۔ دیکھ کر بولے “ہیں؟ ہمارے نام کا “مِیم” اس گوری میم کے مسٹنڈے بوائے فرینڈ کے لیے رکھ چھوڑا کیا؟ یہ کیا خالی “خر” لکھ دیا ہے۔ ”
ہم نے کہا بے فکر رہیے گھوم پھر کر آپکی ہی تشریح کی ہے۔

بدلہ

نوجوانی بذاتِ خود ایک رومان پرور احساس ہے۔ اور اس پر رومانی رشتے بھی میسر ہوں تو مزہ دوبالا سا ہو جاتا ہے۔

پہلے زمانے میں سب لڑکیاں ایک ہی منگیتر سے کام چلا لیتی تھیں ۔
کسی ایک کے منگیتر کو “ڈیل” کرنے کے جو مشورے زبردستی سہیلی کے کانوں میں انڈیلے جاتے ۔۔منگیتر کو بھی لگ پتہ جاتا تھا کہ پوری کے ساتھ ساتھ آدھی گھر والیوں کو بھی خوش رکھنا بے حد ضروری ہے۔ ۔۔ ورنہ جانو کی ناراضگی مول لینے کا شدید خطرہ ہے۔
ہماری ایک دوست کی بھی نئی نئی منگنی ہوئی۔ اور منگیتر بھی امریکہ پذیر ۔۔۔۔۔ ایک تو موصوف لائق فائق اوپر سے ایسی ٹھیٹھ انگریزی کہ کئی دفعہ تو باقاعدہ ڈکشنری دیکھنی پڑتی تھی۔
بس جناب اب سب نے “پاکستان بمقابلہ امریکہ ” ایک جنگ سی شروع کر لی کہ وہ رہتے ہیں امریکہ تو ہوں گے مگر ہم پاکستانی بھی کسی سے کم نہیں…

ایک دن انگریزی کے تابڑ توڑ حملوں کے بعد ہم سے رہا نہ گیا۔۔ہم نے دوست کا فون اٹھایا اور منگیتر کو میسج لکھا
” silver clouds are floating on the sky, i can feel the cool breeze.The Birds are chirping, ducks are swimming in the pond and cattles are grazing in the field. Its raining cats and dogs but u r not here so all in vain.”

آخر کیا سمجھتے ہیں وہ ۔۔۔انگریزی میں میسج کریں گے تو
ایسا ہی انگلش B والا جواب دیں گے کرارا۔۔۔
منگیتر صاحب نے جانو کی انگریزی سے غالبا امپریس ہوتے ہوئے فون کیا مگر سہیلی صاحبہ کو معلوم بھی نہ تھا کہ ہم کیا گل کھلا چکے۔ادھر “u r not here so all in vain” کا اثر اتنا گہرا تھا کہ سرشاری کے عالم میں منگیتر صاحب بولے کہ سوچ سمجھ کر پرفیکٹ سائز بتایا جائے تاکہ امپورٹڈ گفٹ لا سکیں۔۔۔ہماری سہیلی نے بغیر سوچے سمجھے جوتے کا سائز بتا دیا اور کہا کہ اگلی دفعہ صحفے پر پاؤں رکھ کر ڈرائنگ کر کے جوتے کی تصویر انہیں بھیجیں گی تاکہ سائز میں کوئی مسلہ نہ ہو۔ 😎

شوہر پرست

خواتین کے بارے میں ان کے شوہر حضرات کا وہی خیال ہوتا ہے جو مذہبی لوگوں کا دنیا کے بارے میں ۔۔۔۔ یعنی”دل لگانےکی جگہ نہیں ہے” ۔ادھر بعض “سرتاج پرور “خواتین ایسی دیکھی ہیں کہ شوہر کو منہ لگائیں یا نہ لگائیں لیکن گلے سے ضرور لگائے رکھتی ہیں۔

ایسی ہی شوہر پرستی تو بس ہماری جان پہچان کی ایک خاتون جمنا بیگم پر ختم تھی۔ نام تو انکا کچھ اور تھا مگر ازدواجی زندگی میں شاندار کامیابی کے نتیجے میں اوپر تلے “جمنے” کے بعد انکا نام جمنا بیگم پڑ گیا تھا۔
ایسی سمجھدار تھیں کہ بن کہے اشارے سے ہی بات سمجھ جاتیں۔ ادھر شوہر نے آنکھ ماری ادھر یہ فورا شرما گئیں۔ ادھر شوہر نے ابرو کو اٹھا کر جھٹکا ادھر جھٹ سے انہوں نے جان لیا کہ اسٹور کے پچھلے کمرے میں ملاقات کابلاوا ہے۔ ادھر وہ کھنکارے ادھر یہ تولیہ لے کر غسل خانے کے اندر پکڑانے کے بہانے خود بھی اندر۔۔۔
شوہر کے سامنے عورت کے زبان چلانے کی حامی نہ تھیں۔ بلکہ سیدھا ہاتھ اٹھانے کی قائل تھیں۔ اکثر خود بھی منے کے ابا کو پیار سے بیلن دے مارتیں۔
آس پاس کی خواتین میں مشہور تھا کہ منے کے ابا کچھ دل پھینک واقعہ ہوئے ہیں مگر اسے یہ انکی محبت کی فراوانی سے تعبیر کرتیں۔
شوہر سے محبت اور خدمت کا یہ عالم تھا کہ گھر میں ایک عدد مرغی پال رکھی تھی جو ہر روز ایک انڈہ دیتی ۔ انتہائی اہتمام سے وہ انڈہ بنا کر روز خود کھا لیتی تھیں کہ منے کی ابا کی خدمت کیلیے پہلے خود انکا صحت مند رہنا بے حد ضروری تھا۔۔😎

یارم یتیم😋

اب کی بار جو یارم سے ملاقات ہوئی تو حسب معمول انکی صورت دیکھ کر ہمیں ہول اٹھنے لگا۔ایک تو خدا کی دین ایسی منحوس صورت اور اس پر یارم کا کیفیتِ غم کا خول چڑھانے کی اپنی سی ناکام کوشش۔ بہرحال تعلقِ دوستی کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے ان سے چار و ناچار پوچھنا ہی پڑا “خیریت تو ہے نا ” ؟

یارم بھی آواز میں درد بھر کر بولے ” بس یار تیرا دوست یتیم ہو گیا ہے”
کیا؟ ؟؟ خالو جان گزر گئے؟ مگر کب؟” اتنی جلدی؟
ابھی پرسوں ہی تو پرچون والے کو گالیاں دے ریے تھے۔ اور اس سے تھوڑا پہلے ہی درزی کی دکان پر آئی اس عورت سے فری ہونے کی ناکام کوشش کر رہے تھے۔ ارے ابھی تو کتنے ادھار باقی تھے خالو جان کے سر۔ ؟ ” باقاعدہ ‘بین نما’ کرتے ہوئے ہم نے کہا تو یارم ذرا چڑ کر بولے ” افوہ! ابا کو کیا ہونا ۔ تم فکر مت کرو۔ بقول اماں ۔۔ابا انکی جان لیے بغیر نہیں ٹلیں گے ۔اور اماں کا خود ابا سے پہلے گزرنے کا کوئی ارادہ نہیں کہ مبادا انکے آنکھیں موندتے ہی میت پر سوت لا کر بٹھا دیں”
(ویسے بڑوں سے تو سننے میں آیا تھا کہ یارم کے ابا کو بھری جوانی میں بھی بمشکل ہی خالہ کا ہاتھ نصیب ہوا تھا۔۔ وہ بھی گالوں پر۔ ۔ اسکے بعد یارم کے نانا مرحوم نے یہ سوچ کرانکی اماں کا بیاہ ابا سے کر دیا کہ بیٹی کا ہاتھ کسی غیر محرم کو نہ چھوئے لہذا نکاح پڑھوانے کے بعد فعل جائز قرار دلوا کر ہی دم دیا انہوں نے)
خیر سب باتیں ایک طرف رکھ کر یارم سے پھر پوچھا
” جب خالو جان حیات ہیں تو پھر آپ کاہے کے یتیم؟ ”
تبھی انہوں نے یہ انکشاف کیا کہ انہوں نے اپنا تخلص یتیم چنا ہے۔ لہذا اب وہ “یارم یتیم” ہو گئے ہیں۔ اور انہیں اسی نام سے لکھا اور بلایا جائے۔
یارم پر دل ہی دل میں لعنت بھیجتے ہوئے ہم نے عرض کیا “مگر کتنا عجیب لگے گا نا !
اول تو تخلص جیسی دم ادباء و شعرا نامی بندروں کو لگی ہوتی ہے۔ اور آپ کا ادب سے دور دور تک بھی کوئی واسطہ نہیں اور دوئم آپ کو تو اردو کے حروف تہجی بھی صحیح سے نہیں آتے۔مطلب کوئی واسطہ ہو بھی نہیں سکتا ۔”
مگر انہوں نے گویا بم پھوڑا ” ارے جانے دیجیے۔ آپ کیا جانیں کہ کتنا بڑا شاعر آپ کو شرف ملاقات بخش رہا ہے.شکر منائیے کہ ابھی تک آپ ہمارے دوست ہوتے ہیں۔ ورنہ بڑے لوگ کہاں آپ جیسے ایرے غیروں کو منہ لگاتے ؟”
“شاعر صاحب آپ خود ہی سوچیے نا! یہ تخلص لگا کر تو آپ کے بےیارومددگار شعر مزید یتیم ہو جائیں گے۔۔ ” ہم نے انہیں روکنے کی اپنی سی کوشش کرنا چاہی مگر وہ تھے کہ ابرو اٹھا کر شان بے نیازی سے بولے۔۔عرض ہے!!!
” حسینہ مت گِر غیروں کی بانہوں میں
پگلی آ جا اس یتیم کی پناہوں میں”
اور اس شعر کے بعد یارم نے چہرے پر سستی فلموں والے جذبات ابھارے تو بے اختیار ہم کہہ اٹھے
لاحول واللہ یارم اتنا واہیات شعر آپ ہی کہہ سکتے ہیں۔کچھ اردو پر رحم کیجیے۔مگر انہوں نے یکسر نظر انداز کرتے ہوئے فورا سے بیشتر دوسرا شعر عرض کیا

” ان دشمنوں کو سڑنے دو۔۔
مجھ چکور کو چاہیے چاند”

“ہیں ؟ یہ کیسا شعر ہے؟ نہ نغمگی، نہ تال میل نہ وزن؟ ”

ہم ممناتے ہی رہ گئے اور وہ مزید شانِ بےنیازی سے گویا ہوئے ” نغمگی اور تال میل ویسے بھی میراثیوں کا کام ہے اور تم جیسے جاہل کو کیا معلوم نہیں کہ شعر میں چاند ڈالا ہے اور چاند پر کشش ثقل کم ہونے کیوجہ سے زیادہ وزن نہیں ہوتا۔”
اب ہم بھلا مزید کیا کہتے ؟ لہذا بس یہی پوچھ لیا کہ یہ ڈھونگ کس لیے؟ تبھی پتہ چلا کہ یارم نے یہ سارا کھیل “حسینہ” کیلیے رچایا تھا جسے یارم نے اردو پڑھانے کے لیے نجانے کیسے رجھا، پھنسا اور منا لیا تھا۔
اب ہم تو دل ہی دل میں دعا کر رہے تھے کہ خدا ہی حسینہ اور اردو پر رحم فرمائے۔ یارم کو بھی پندونصائح کے ڈھیر تلے دبا کر الوداع کیا کہ حسینہ سے کیسے پیش ْآنا ہے۔ اور کوئی ایسی ویسی حرکت نہیں کرنی۔مزید برآں انکے دماغ میں اچھی طرح یہ بات ڈال دی کہ باعزت معاشرے کے بے عزت شہری کو پتہ ہونا چاہیے کہ آداب معاشرت بھی کوئی چیز ہے۔ لہذا محتاط رہیں۔ وہ بھی الوداع ہونے تک بُز اخفش کیطرح سر ہلاتے رہے۔
۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔۔
چار دن بعد یارم سے ملاقات ہوئی تو انکا منہ اترا سا لگا۔ ہم نے استفسار کیا ” اور سنائیے یارم؟ علم کی روشنی سے حسینہ کو کتنا مستفید کر چکے آپ ؟ ”
جل بھن کر گویا ہوئے ” خدا نے ان حسینوں کو بھی عجیب ہی دماغ دیا یے۔ خواہ مخواہ ہی ناراض ہو گئیں”
“ہیں؟ وہ کیوں؟ ” حیرت سے ہم نے پوچھا تو بولے
“دور دور ہو کر بیٹھ رہی تھیں تو میں نے ان سے کہا کہ بے فکر رہیں اور تسلی سے میرے پاس بیٹھ جائیں کہ میں اپنے دوست سے آدابِ مباشرت سیکھ کر آیا ہوں” ۔
لاحول ولا قوة یارم م م م م م ۔ ۔ ۔