یارم پارسا

یوں تو بہت سے لوگوں کی “موصوف” سے جان پہچان ہے۔ مگر ہمارے “یارم پارسا” جیسے دوست کم لوگوں کو ہی “بدنصیب” ہوتے ہیں ۔👿
ہم اپنے یارم کی پارسائی کی قسم کھا کر کہہ سکتے ہیں کہ ان میں رتی بھر بھی نہیں پائی جاتی۔👿
ایمان اور پارسائی سے بس اتنی ہی شناسائی ہے کہ صفائی کو عین نصف ایمان سمجھتے ہوئے زمانے بھر کا گند سمیٹ کر اپنی سوچ اور موبائل میں بھر کر رکھتے ہیں۔😎😂
ہم انہیں ہمیشہ سے اذیت پسند سمجھتے آئے۔ کیونکہ اکثر
ہی آگ پر لوٹنے کی خواہش کا اظہار جو کیا کرتے تھے۔
وہ تو ایک دن سڑک سے ایک حسینہ گزری تو بے اختیار انکے منہ سے نکلا “آگ ہے یار آگ” ۔ تب جا کر ہمیں معاملہ کی سمجھ آئی۔😱
کسی حسینہ کو دیکھ کر ان پر جو لرزہ و کپکپی طاری ہوتی ہے وہ کسی عام آدمی پر موت کا منظر سننے کے بعد طاری ہوتی ہے۔😋
صنف نازک کی بدولت زندگی اکثر ہی انہیں نازک موڑ پر لے آئی۔ مگر جہاں حسین انجام ممکن نہ ہوا وہاں حسرت و یاس کی تصویر بنے بےچارگی سے کرسیاں لگانے کا کام کیا۔
زندگی زندہ دلی کا نام ہے۔ اسی کو ثابت کرنے کیلیے کئی دفعہ ہڈیاں سہلاتے ہوئے اٹھ اٹھ کر جیے۔
ایک دفعہ ان کے دل میں بھی سچی محبت کی جوت جگی ۔ہم نے لاکھ سمجھایا کہ ہوس سمجھ کر جھٹک دیجیے مگر نہ مانے۔ الٹا دیدِ یار کیلیے دیدے پھاڑ کر بلاناغہ کوچہ جاناں پر حاضری لگانے پہنچ جاتے تھے ۔ مگر زندگی میں فقط ایک ہی بارلفٹ نصیب ہوئی وہ بھی پچھلی گرمیوں میں جب سب ایوبیہ گئے تھے۔😃
ایک دن تو حد ہی کر بیٹھے۔ ۔ چوک پر اس حسینہ کو دیکھ کر ان پر وہی کپکپی سی طاری ہو گئی جو اکثر ہیرونچی پر نشہ ٹوٹتے وقت طاری ہوتی ہے ۔ جسم اکڑا کر بےاختیار ورد کرنے لگے۔ “تلبلا رہا ہے تلبلا رہا ہے ”
ہم نے پوچھا “کیوں یارم کیوں تلملا رہا ہے؟ نہیں ڈالتی گھاس تو نہ سہی”
ہماری طرف گھورتے ہوئے بولے “جاہل اس کے گال کاتِل بُلا رہا ہے”۔

Advertisements

میں ایک بیوی ہوں

“بزم مزاح نگاری ” 2017
“بنام پطرس بخاری”
تحریر نمبر : 7
تحریر : فاطمہ عمران
جوابِ شکوہ
“میں ایک بیوی ہوں _ ”
میں اپنے سیدھے سادھے میاؤں کی نیک سیرت اور کم گو بیوی ہوں۔ جس کی زبان دو گز سے پورے ایک بالشت چھوٹی ہے۔فی زمانہ یہ بھی بہت ہے۔اور اس پر وہ جتنا خدا کا شکر ادا کریں کم ہے۔
جانے کون سی خواتین ہیں جنہیں اپنے میاں کے یار دوست ایک آنکھ نہیں بھاتے کہ مجھے تو دونوں آنکھوں سے ہی زہر لگتے ہیں ۔
خدا نخواستہ کسی ایسے ویسے کام میں ہمارے میاں کبھی پہل نہیں کرتے ۔بلکہ انکے یہ چالاک دوست انہیں ہر الٹی سیدھی جگہ گھسیٹنے کو تیار رہتے ہیں تاکہ ساتھ ہی انکا نام بھی آئے۔وہ تو ہمارے معصوم میاں ہی ہر بار وعدہ معاف سلطانی گواہ بن کر ہمارے سامنے سب اگل دیتے ہیں۔
سینما جانا ہو یا ڈنر باہر کرنا ہو۔ہر بار ہمارے میاں کو پھسلانے میں اس موئے لمبو کا ہاتھ ہوتا ہے جو ہمیں ویسے ہی بال کی طرح کھٹکتا ہے۔ ہمارے میاں کو ہماری پرواہ ہونے بھی لگے تو یہ حضرت سوکن بن کر انکا سارا دھیان خود میں لگا لیتے ہیں۔ ہا لگے گی اسے ایک دن میری۔۔ بھری جوانی میں گنجا ہو گا۔ ۔ دیکھ لینا۔ ۔
اور ایک وہ پیٹو جو ہمیشہ”بھابی جی بہت لذیذ بنائے ہیں “کہہ کر سارے شامی کباب کھا جاتا ہے۔ بندہ کسی کے گھر مہمان جائے تو اتنا تو پتہ ہونا چاہیے کہ دو چار چیزیں بچوں کے کھانے کیلیے بھی چھوڑنی ہیں۔بچے بھی آخر سدا کو تمیز دار تھوڑی نہ رہیں گے۔ مہمان جانے تک کسی طرح چپ کروا ہی دیتی ہوں مگر بعد میں پلیٹ میں کچھ بچا ہو گا تو انکا دھیان بٹے گا۔
اور وہ تیسرے مہاراج ۔ اپنی بیگم کو منانے کیلیے ہمارے شوہر سے مشورے لے کر جاتے ہیں ۔ جیسے ہمارے شوہر تو بڑے کارآمد نسخے بتائیں گے نا ۔ خود ہمیں منانے کیلیے انہیں “محبوب قدموں میں کرنے والے” جھوٹے پیر کے تعویز لانے پڑتے ہیں۔ انہیں کیا پتہ کہ میں تو خود ہی مان جاتی ہوں ۔ورنہ ان تعویزوں میں اثر ہوتا تو وہ خود نہ میرے قدموں میں ہوتے۔
ویسے میں بھی اللہ میاں کی گائے ہی ہوں۔ اسقدر فرمابردار بیوی ہوں کہ ایک دن کہنے لگے یہ کاغذات وہاں رکھ دینا۔اب بچوں کے شور جھنجٹ میں بات کہاں سمجھ میں آتی ہے ۔میں نے پوچھا “جی کہاں رکھنے ہیں؟” جواب دینے ہی لگے تھے کہ امی کا فون آ گیا۔ میں نے کہا “اجی ذرا رکنا” ۔صرف بیس منٹ میں جلدی جلدی بات کر کے کہا کہ بعد میں تفصیل سے بات کروں گی۔امی کو خدا حافظ کر کے ان سے کاغذات کا دوبارہ پوچھا ہی تھا کہ کیبل کا بل لینے والا آ گیا۔ اسے بھگتا کر واپس آئی۔ پھر سے پوچھا تو کہنے لگے میرے سر پر مار دو۔ میں نے بھی پوری فرمانبرداری سے سر پر دے مارے ۔ جانے کیوں تین دن روٹھے روٹھے سے پھرتے رہے ۔
میں لاکھ سنبھالتی پھروں مگر اسقدر بھلکڑ ہیں میاں جی کہ اکثر چیزیں ادھر ادھر رکھ کر بھول جاتے ہیں۔ اس کمال صفائی سے چیزیں غائب کرتے ہیں کہ اگر شعبدہ باز ہوتے تو مجھے پورا یقین ہے کہ ایفل ٹاور نہ سہی مگر مینارِ پاکستان ضرور نظر سے اوجھل کر دیتے اور لوگ دیکھتے ہی رہتے ۔ مجھے تو ڈر ہے کسی دن میرا نام بھی بھول جائیں گے۔ ویسے اپنے دوستوں کے پاس ہنسی ٹھٹول کیلیے جانا تو کبھی نہیں بھولتے۔
جب ٹی وی پر میرا پسندیدہ سوپ چل رہا ہو ولن سے زیادہ تو خود انہیں ہیروئین کے ہیرو سے گلے لگنے پر تکلیف ہوتی ہے ۔یہی ہیرو خود ہوتے تو شرط لگا لو خیالات کچھ مختلف ہوتے۔اسی رقیبانہ سی عادت کے سبب کئی جرابیں دراز میں تنہائی کے درد بھرے گیت گاتی ہیں کہ ہیرو ہیروئین کیطرح انکا جوڑا ملنا ناممکن سا ہے۔
اس سے بڑھ کر اپنی سادگی کی کیا مثال دوں کہ میں نے آج تک ان سے کبھی بے موقع کپڑوں کی فرمائش تک نہیں کی۔ بس جب سیل کا موقع ہو تبھی چلی جاتی ہوں کہ موقع بھی ہوتا ہے اور دستور دنیا بھی ۔ یہ تو موئے برانڈ والے ہی ہر دو مہینے بعد سیل لگا دیتے ہیں ۔ ورنہ میں تو تین مہینے تک بھی دکان کی شکل نہ دیکھوں۔پچھلی دفعہ کہنے لگے اب کے آپ کی فرمائش پوری کرنے کیلیے ڈاکہ ڈالنا پڑے گا ۔توبہ توبہ سب ان موئے دوستوں کی کارستانی ہے۔ اب چور ڈاکو ہی بننا باقی رہ گیا ہے انکی صحبت میں۔ انہوں نے ہی کچھ ایسی الٹی پٹی پڑھائی ہے۔ورنہ سیدھے سیدھے یہ بھی تو کہہ سکتے تھے کہ پہاڑ کھود کر ہیرے نکال لانے پڑیں گے ۔
ایک میں کہ پورے دو مہینے بعد سیل پر جا کر بچت کرتی ہوں اور ادھر یہ کہ اسقدر شاہ خرچ طبعیت پائی ہے جناب نے کہ ایک دن انہیں ہری مرچیں لینے بھیجا تو پوری ایک کلو اٹھا لائے ۔ مین نے کہا “حد ہے اتنی مرچیں”؟ کہنے لگے “بیگم رکھ لو تمہاری صحبت میں کچھ اور تیکھی ہو جائیں گی”. ساری کی ساری اسی دن ہانڈی میں ڈال پکائیں میں نے۔ پھر مجھے کہنے لگے “بیگم حد ہے اتنی مرچیں” میں نے بھی شان بے نیازی سے کہا سب کی سب میری صحبت میں آپ کی محبت میں گرفتار ہو گئیں ۔آپ کے لبوں پر ب و س ہ دینے کو بے قرار تھیں۔سو لبوں تک رسائی کا آسان راستہ دے دیا انہیں میں نے۔ بڑے چالاک ہیں مطلب کی بات نکال ہی لیتے ہیں ہر بات میں سے۔ کہنے لگے “چلیں بیگم آپ تو کبھی پہل کرتی نہیں۔مرچوں نے کی تو۔ ”
ہٹ پرے بے شرم کہیں کے . ۔ ۔ شریف گھرانوں کی عورتیں اپنے شوہروں کے ساتھ ایسی بے شرمی میں پہل کرتی ہیں کیا بھلا؟
۔
چھٹی کا ایک ہی دن ہوتا ہے اس پر بھی انکے یہ موئے دوست بہانے بہانے سے یوں منہ اٹھائے چلے آتے ہیں کہ گویا حاضری نہ دی تو نمبر کم ہو جائیں گے۔ایک ہفتہ تو میں نے بھی سوچ لیا کہ امی کی طرف رہوں گی ۔ گھر پر کوئی پوچھنے والا ہو گا نہیں پھر دیکھتی ہوں کیسے بے موسم کے بد ذائقہ آم کی طرح ٹپکیں گے گھر میں۔بس فٹا فٹ سامان پیک کیا، بچوں کو ساتھ لیا اور چلی گئی۔
چار دن خوب مزے میں گزارے۔
پانچویں دن صبح آرام سے سو کر بارہ بجے اٹھی تو انکی کال آ گئی۔کہنے لگے “بیگم جلدی سے گھر آ جاؤ۔ گھر کے در و دیوار تمہیں بلا رہے ہیں۔”
میں تو دل ہی دل میں خوب خوش ہو گئی کہ اب پتہ چلا انہیں۔ قدر آ گئی میری۔ یہ بے مروت دوست ہر وقت ساتھ تھوڑی نہ رہتے ہیں۔ اصل ساتھی تو بیوی ہی ہوتی ہے۔ لگتا ہے چار دن میں خوب سمجھ گئے ہیں اس بات کو۔ میں نے بھی ذرا اٹھلا کر کہا “دو چار دن اور رہ لیتی ہوں امی کی طرف” بولے “نہیں نہیں بس آ جاؤ”
ٹھک فون بند۔ صحیح عقل ٹھکانے آ گئی ہے جناب کی۔ دیکھا کیسے بے تاب ہو کربلا رہے ہیں۔
آرام سے تیاری کی۔دل ہی دل میں سوچا کہ شام تک ہی جاؤں گی ۔ ذرا مزید یاد کرنے دو۔ سکون سے شام کو گھر پہنچی ۔ چابی لگا کر اندر آئی۔ توبہ کیسا سناٹا ہوا پڑا ہے۔ دیکھا میں نہ ہوں گھر پر تو کسی بے رونقی سی چھائی ہے۔ سچ ہے بچوں کے بغیر گھر کتنا سونا سونا لگتا ہے نا۔ خیر اب تو آ گئے ہیں۔ مگر یہ ہیں کہاں؟ باہر صحن میں تو نہیں دکھے۔ جہاں گملے بھی ہماری یاد میں سوکھے پڑے ہیں۔ دروازہ کھلا ہے ٹی وی لاؤنج سے اندر آنے کا ۔ ہائیں یہ کس نے کھولا؟ اندر پہنچ کر دیکھا تو سب سامان یوں تہس نہس پڑا تھا جیسے گھر میں ڈاکا پڑا ہو یا وہ فلموں کی طرح گھر سے کوئی ایجنٹ اہم فائل چوری کرنے آیا ہو اور سارا سامان تہس نہس کر دیا ہو۔ کشن زمین پر۔ برتن وہیں کے وہیں۔ ریموٹ صوفے کے نیچے۔ ٹشو پیپر کے ٹکڑے فرش پر ادھر ادھر بکھرے ہوئے۔ گلاس اوندھے اور میز پر پڑے گلدان کے درمیان دراڑ صاف نظر آ رہی تھی جسے ٹوٹ جانے کے بعد پھر سے صحیح رکھنے کی ناکام کوشش کی گئی تھی ۔ کمرے کی طرف بڑھتے ہوئے کچن میں جھانکا تو سینک کے اوپر تک جلے ہوئے برتنوں کا انبار سا لگا تھا ۔ خودبخود قدم اندر اٹھتے گئے۔ہائے اللہ اتنی بڑی سالن کی پتیلی میں چائے کون بناتا ہے؟ اور یہ فرائنگ پین پر گوشت کے ادھ جلے ٹکڑے دیکھ کر تو سر چکرا کر رہ گیا۔ گوشت فرائنگ پین میں گلا ہے کبھی کیا؟ اور چائے کے کپ میں پانی اور پانی کے گلاسوں میں جمی چائے ۔ افف خدایا یہ کیا حشر بپا ہے؟ دوڑی کمرے میں گئی۔ کیا دیکھتی ہوں کہ انکھیں سینکانے کو کپڑوں کا انبار الماری کے باہر نیچے قالین پر پڑا ہے۔ اور باقی کا حال بتانے کی تو مت پوچھئے ۔ پر یہ کدھر ہیں؟ نظریں گھماتے ہوئے
صوفے کے نیچے نظر پڑی تو چیخ نکلتے نکلتے رہ گئی۔کیا دیکھتی ہوں نیچے گرے پڑے ہیں. ہائے اللہ کہیں میری یاد میں بے دم تو نہیں ہو گئے ۔یا مجھے یاد کرتے کرتے اگلے جہان تو نہیں نکل گئے؟۔ انکے بغیر زندگی کا سفر کیسے چلے گا ایک لمحے کو یہ سوچ کر بالاخر منہ پر اٹکی چیخ نکل ہی گئی۔ آواز سے ہڑ بڑا کر اٹھ بیٹھے۔ کہنے لگے “آ گئی بیگم ۔ شکر ہے۔ کب سے انتظار کرتے کرتے آنکھ لگ گئی میری۔ورنہ آج تو کوئی برتن نہیں بچا تھا جس میں دو گھونٹ پانی ہی پی لیتا۔کل دوستوں کے ساتھ پارٹی ہوتی رہی تو کافی کام اکٹھا ہو گیا۔ میں نے سوچا تم آ کر دو گی۔ اچھا ہے آ گئیں تم۔ اور ذرا ایک سوٹ تو استری کر دو۔ شام کو دوستوں کے ساتھ ذرا باہر جانا ہے”
میں جو ابھی قریبی لمحات میں ہی بیوگی کے تصور سے قریب المرگ ہوتے ہوتے بچی تھی۔ آنکھوں میں موٹے موٹے آنسو بھر کر کہا “لائیے دیجیے۔ ابھی کر دیتی ہوں۔ ”
اب انکے دو چار موئے دوستوں کیلیے انکو تو نہیں قربان کر سکتی نا ۔جیسے بھی ہیں بس سلامت رہیں ہمارے سر پر۔18699691_1315823415200691_8923916597572615492_o.jpg

زرد محبت

سانے محبت کے۔۔۔۔۔۔۔ 57
افسانہ: زرد محبت
افسانہ نگار: فاطمہ عمران
لاہور، پاکستان
بینر: مدثر، علی نثار…
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
افسانہ نگار: فاطمہ عمران
زرد محبت
سمندر شہزادے کو چاند شہزادی سے عشق ہو گیا۔محبت نےایسا سحر طاری کیا کہ اس کی موج موج عشق پکارتی اور لہر لہر اس عشقیہ ساز پر سر دھنتی۔ ۔ چاند شہزادی اکثر اسکی گود میں سر رکھ کر اپنا عکس اسے سونپ دیتی۔
لہریں اور عکس ایک دوسرے میں سما کر نگر نگر کی سیر کرتے۔ مگر زمین صدیوں سے سمندر پر اپنا حق جتائے بیٹھی تھی اسے سمندر کا یہ عشق ایک آنکھ نہ بھایا۔ اپنا سمندر کسی اور کو سونپ دینے کا خیال بھی روح فرسا تھا۔ اس نے آسمان سے ساز باز کر لی ۔
ادھر سمندر اور چاند نے بھی ملن کا سپنا بن لیا۔ چودہ کو سولہ سنگھار کر کے پورے جوبن کے ساتھ چاندنی سمندر میں ڈھل جانے کو آئی تو آسمان نے اس کے قدموں میں بیڑیاں ڈال دیں۔ ادھر زمین نے بھی سمندر کو جکڑ لیا۔سمندر میں اتھل پتھل ہوئی۔ موجیں چاند شہزادی کو چھو لینے کیلیے بے قرار کر اوپر اٹھتیں اور پھر بےدم ہو کر ساحل پر جان دے دیتیں ۔ دوری کے اس عذاب نے چاند شہزادی کو کملا دیا ۔ اور زرد شہزادی کو اماوس کا روگ لگ گیا۔
 18673264_10212773806401594_6073003964846087627_o.jpg

کاکروچ

دنیا میں جتنے بھی قبیح شکل و صورت والے حشرات الارض پائے جاتے ہیں کاکروچ ان میں اپنا ایک الگ اور منفرد مقام رکھتا ہے۔ شکل سے ہی طاغوتی دکھنے والے اس جاندار کے کراہت آمیز وجود پر دو انٹینا نما مونچھیں جہاں اسکی خباثت میں خاطر خواہ اضافے کا باعث ہیں۔ وہیں اسکی رک رک کر اینٹینا کو حرکت دینے والی عادت ہمیں اور بھی زہر لگتی ہے۔😵😵
اکثر فراغت میں نہایت فرصت سے وقت کا ضیاع کرتے ہوئے ہم نت نئے خیالات بُنا کرتے ہیں۔ایسے قیلولہ میں ہم بغیر احسان جتائے یاکسی انعام کے لالچ کے دنیا کو اپنی نادر و نایاب سوچ کا تحفہ دینے میں ہرگز عار محسوس نہیں کرتے۔😃
ایک دن اسی قسم کے خیالات میں گُم کسی کمزور لمحے میں ہم نے عقل کے گدھے دوڑاتے ہوئے چشم تصورمیں لال بیگ کو انسانی شکل میں ڈھالنے کا ارادہ کیا تو بہت سوچ بچار کے بعد ہم اس نتیجہ پر پہنچے کہ اگر یہ انسانی شکل میں پیدا ہوتا تو یقینا شاعر ہوتا۔😂 منحنی سی ٹانگوں پر اپنے سائز سے بڑی کرائے کی شیروانی پہنے ہوئے کوئی غریب سا شاعر جو غزل سنانے کیلیے اپنے اینٹینا ہلا ہلا کر “شکار” تلاش کرتا ۔ ۔ خیر۔ ۔
اتنا مشکل امر ہمیں کاکروچ مارنا نہیں لگتا جتنا کٹھن اسکی لاش کو جوتے سے اتار کر کسی مناسب ٹھکانے لگانا۔ مار تو خیر دور سے جوتا پھینک کر بھی لیا جاتا ہے اور اسکے بعد اسی جوتے کو مزید دبا کر “کڑچ ” کی آواز کے ساتھ اسکی موت پر مہر ثبت کر دی جاتی ہے۔تبھی اچانک سے یہ خیال ہمیں غمگین کر دیتا ہے کہ اتنا مہنگا جوتا اتنے سستے کاکروچ کی خاطر آلہ قتل میں تبدیل کر ڈالا ۔ 👿😱😱
قتل کے اس عظیم معرکے کے بعد اگلہ مرحلہ اس نحوست زدہ بےجان وجود کی لاش کو ٹھکانے لگانا ہے۔😱
تاسف اور خوشی کے ملےجلے جذبات کے ساتھ جوتے کے تلوے پر چپکی ہوئی لاش کوڑا دان میں ایک دو جھٹکے دے کر غلاظت برد کرنا آسان ہے۔ مگر سفید رنگ کےمادے سے بہرحال جوتے اور جوتے پر موجودگی کے احساس سے دو چار روز تک چھٹکارا پانا ممکن نہیں۔ ۔ 😕
ذرا محبوب کا تصور کیجیے ۔ اس کی مخروطی انگلیوں کا لمس چشمِ تصور سے اپنے جسم پر رینگتا ہوا محسوس کرنے کی کوشش کیجیے ۔بےخودی کی ان کیفیات میں اب ان انگلیوں کو کاکروچ کی ٹانگوں سے بدل دیجیے۔ ۔ بےاختیار یہ جو جھرجھری سی آ گئی ہے نا۔ بس اس مکوڑے کو دیکھ یہی حالت ہماری ہوتی ہے ۔😋
ایک پڑوسن کی بچی نے جب “ماما دیکھیں چاکلیٹ چل رہی ہے” کہہ کر اس ذی روح کو جس عقیدت و احترام سے نذرِ شکم کیا آج بھی وہ منظر سوچ کر ابکائی سی آ جاتی یے۔😂
جانے کون لوگ ہیں جن کے پاس رنگ و گل کی اسقدر کمی ہے کہ کیک پیسٹریوں پر بھی اسے سجائے پھرتے ہیں۔😱
ہمارے خیال میں اس مخلوق کو دنیا سے اور دنیا کو اس مخلوق سے یکسر نجات دے دینی چاہیے ۔ ہمیں اسکی سائنسی افادیت اور کرہ ارض پر نسل انسانی کیلیے اسکی موجودگی کی اہمیت سے کوئی لینا دینا نہیں ۔😎👿👿
بس اسکی ناکام اور لیچڑ عاشق کی طرح چھچھوری، ڈھیٹ اور نہ مرنے والی عادت سے ہی بڑی خار ہے۔😎

دیوار

بظاہر عام سی دیوار کے بارے میں سب سے بہترین بات یہ ہے کہ یہ جب چاہو عین دل اور رشتوں کے بیچ و بیچ کھڑی کی جا سکتی ہے۔😎
اسکے علاوہ اکثر رقیب روسیاہ بھی عاشق اور محبوب کے بیچ دیوار کا کام کرتا ہے۔ اور عاشقِ نامراد محبوب کو اس دیوار پر سر ٹکائے آنسو بہاتے دیکھ کر کڑھتا رہتا ہے۔😂
دنیا کی قابل ذکر دیواروں میں سے ہمیں کالج کی دیوار اچھے سے یاد ہے کہ آرٹ اور شعرو شاعری کے جو نادر نمونے اس دیوار پر نقش ہوئے پھر کہیں اور انکی مثال ملنا ناممکن ہے۔😎
دیوار چین کا شمار بھی ہماری پسندیدہ دیواروں میں ہوتا ہے کہ اس کی لمبائی برابر ہماری زبان سے ملتی ہے۔ 😃
ویسے تو دیوار حد بندی کے کام آتی ہے مگر تاریخ گواہ ہے کہ نسلِ انسانی کی تمام حدود اسی حد بندی کے اندر پار کی گئیں۔👿👿😱
بالفرض اگر دیوار نہ ہوتی تو دنیا میں ہاجوج ماجوج سے بھی زیادہ اہم مسائل اٹھ کھڑے ہوتے۔پسِ دیوار سرانجام دیے جانے والے تمام کام یا تو اندھیرے میں سر انجام دیے جاتے یا پھر جھاڑیوں کے پیچھے ۔👿
عقل داڑھ اور دیوار کی آڑ کا صحیح مصرف تاحال کسی انجانی و ناگہانی دریافت کامتلاشی یے۔ 😂

پرانے زمانے میں دیواریں کمزور زنانیوں کو چنوانے کے کام آتی تھیں ۔فی زمانہ تشہیرِ نسخہ برائے مردانہ کمزوری چھپانے کے۔👿
سنتے ہیں کہ روز محشر نامہ اعمال میں نیکی اور بدی برابر ہونے والوں کو دیوار پر ِانتظار کا عذاب دیا جائے گا۔ اس سے دیواروں پر لٹکے انتظارِ یار میں گم مجنوؤں کی کیفیت کا اندازہ بخوبی لگایا جا سکتا ہے ۔😎

دیوار کی افادیت مبتلائے عشق ہوئے بغیر سمجھنا ذرا مشکل ہے کہ وصل کے طلبگار عاشق کا محبوب سے ملاقات کیلیے دیوار پھلانگنا اور بعد از ملاقات کتوں سے بچنے کیلیے پھر سے دیوار پھلانگنا ایک عاشق کا ہی وصف ہو سکتا ہے۔😃

جو لوگ دیوار کی اہمیت سے انکار کرتے ہیں وہ درحقیقت کبھی دھکے دے کر کوچہِ یار کے در و دیواد سے بے آبرو ہو کر کے نکالے نہیں گئے ۔😎

چیونٹی

قدرت کے شاہکاروں میں ننھی سی چیونٹی کو ہی یہ اعزاز
حاصل ہے کہ اسےنہ صرف بیک وقت عزت اور بے عزتی کیلیے برابر استعمال کیا جا سکتا ہے بلکہ یہ دونوں جگہ یکساں پرتاثیر بھی لگتی ہے ۔ مثلا آپ کسی کو کہہ سکتے کہ میں تمہیں چیونٹی کیطرح مسل دوں گا۔ اور وہ جوابا آپ کو چیونٹی کیطرح کاٹ کر یہ ثابت کر سکتا ہے کہ کسی کو بھی خود سے ہلکا نہیں سمجھنا چاہیے ۔
تمام حشرات الارض میں چیونٹی 🐜ہی وہ واحد کیڑا ہے جس میں اشرف المخلوقات بننے کی بھرپور صلاحیت موجود ہے۔ مثلا بنتِ حوا کی طرح فائر اینٹ بھی صرف چھو کر آپ کے تن بدن میں آگ لگا سکتی ہے۔ اس کے علاوہ چیونٹیوں کی قطار میں ہر آمنے سامنے سے آنے والی چیونٹی دخترِ آدم کی طرح عادت سے مجبور رک کر بھرپور حال احوال پوچھتی ہے۔ ہو سکتا ہے دو چار ادھر ادھر کی باتوں کے ساتھ ساتھ لگائی بجھائی بھی کر لیتی ہو۔
ملکہ چیونٹی کو چیونٹیوں کی سنی لیون کا درجہ حاصل ہے کہ تمام چیونٹے چاہ بقا کی آڑ میں مزہِ بے پناہ کیلیے ملکہ کے در پر حاضری قبول کرواتے ہیں۔
چیونٹی اور انا کے بارے میں مشہور ہے کہ انہیں مارنا بڑا مشکل ہے سو انا کے مارے لوگوں کو ناک پر مکھی کی بجائے چیونٹی کو نہ بیٹھنے دینا چاہیے ۔
کہتے ہیں کہ چیونٹی کے تین حصے کر کے الگ جگہ رکھ دو تو دوسری چیونٹیاں اسے آ کر لے جاتی ہیں ۔ پھر ملکہ چیونٹی ایک ایسا جادو کرتی ہےکہ وہی چیونٹی آپکو واپس قطار میں ملے گی۔ اس کہانی کے حساب سے ہمیں یقین ہے کہ چیونٹیوں کے ہاں پیری مریدی عروج پر ہو گی۔
جب جب کسی کو کیڑے پڑنے کی بددعا دی جاتی ہے تو ان کیڑوں میں سرفہرست دراصل چیونٹی ہی ہوتی ہے۔
یہ محمود و ایاز اور کرگس و باز پر یکساں حملہ آور ہوتی ہے۔
ایک دوست نے چیونٹی پر بحث کرتے ہوئے اس کو حقیر قرار دیا تو ہم نے کہا کہ اگر چیونٹی حقیر ہوتی تو علامہ اقبال مکڑے اور چیونٹی پر نظم لکھتے اور چیونٹی کو مکڑے کی خوراک بناتے یا چیونٹی کے بارے میں کہتے “یوں تو چھوٹی ہے ذات چیونٹی کی”. مگر ہار نہ مانتے ہوئے کہنے لگے کہ اس میں کیا بڑی بات ہے کہ چیونٹی بوجھ ڈھوتی ہے ۔وہ تو گھوڑا، اونٹ اور گدھا بھی ڈھو لیتے ہے۔ آخرالذکر سے مراد وہ خود تھے۔ کہ اکثر حلقہِ یاراں میں انہیں اسی لقب سے پکارا جاتا ہے۔
گو ہمیں چیونٹی🐜 کی شان میں یہ عظیم گستاخی پسند نہ آئی۔ مگر سن کر کڑوا گھونٹ پی لیا کہ پھر کسی اور موقعے پر انہیں دیکھیں گے

ڈائجسٹ رائٹر

وہ: یہ کیا لکھا ہے؟ 😀
میں : کیا؟ 😂😂😂. . کہاں کیا لکھا ہے میں نے؟
وہ: ہیروئین نے ہیرو پر لعنت بھیجی😒۔ ۔ اس کو ڈائجسٹ کی طرح لکھو . ایسے کون لکھتا ہے بھلا؟ تمہیں پتہ ہے نا ڈائجسٹ رائٹر بننا اتنا آسان نہیں ہے 😎

میں: اچھا یہ لو
“ہیروئین نے پلکوں کی چلمن اٹھائی تو ہیرو ان دو دہکتے انگاروں کی حدت برداشت نہ کر سکا۔ ان آنکھوں میں صاف صاف دکھائی دے رہا تھا “نفرت”. ہیرو نے اسکا بازو پکڑنا چاہا مگر ہیروئین نے جھٹکا دے کر چھڑا لیا اور بھاگ گئی ۔اسے ان قدموں کی چاپ سے دوری کی بو آرہی تھی”

وہ: ہاں اب ٹھیک ہے۔ اور یہ کیا لکھا ہے؟ ہیرو نے ہیروئین کو ٹھڈا کرا دیا؟ 😠😖 یہ کیا ہے۔ اسے بھی بدلو 😥
ذرا دھیان دیا کرو۔تمہیں پتہ ہے نا۔ ڈائجسٹ رائٹر بننا آسان نہیں ہوتا 😎 کچھ بھی لکھ دیتی ہو 😕
میں : اچھا؟ پی ایچ ڈی کرنی ہوتی کیا؟ . اچھا یہ لیں بھئی😖

” ہیروئین لاکھ صدقے واری گئی مگر اس سنگ دل ہرجائی کو نہ ماننا تھا۔ نہ ہی مانا۔ کٹھور کہیں کا 😜اس کے دل سے ایک سسکی نما آہ نکلی . ۔ آہ!!! بیری پیا ”

وہ: ہاں یہ ہوئی نا بات۔ ۔ اچھا یہ کیا لکھ ڈالا؟ ہیرو شکل سے ہی نشئی لگتا تھا😱۔ اسے تبدیل کرو پلیز ۔ لوگ ایسے نہیں پڑھتے ۔ تمہیں پتہ ہے نا ڈائجسٹ رائٹر بننا اتنا آسان نہیں ہے😂

میں : اچھا۔ ۔ یہ لیں۔
” وہ دراز قد کے مالک اس وجیہہ انسان کے چوڑے شانوں میں سما جانا چاہتی تھی مگر اسے اس کے کالے ہونٹوں سے ڈر لگتا تھا۔ اس نے سن رکھا تھا کہ جو لوگ بہت زیادہ سیگرٹ پیتے ہیں انکے ہونٹ کالے ہو جاتے ہیں ”
وہ: ارے واہ۔ یہ صحیح ہے۔ اور یہ کیا رومانس کا ستیا ناس کر دیا ہے؟
میں: افوہ اب کیا کیا ہے؟ 😡
وہ: یہ دیکھو۔ ہیرو ہیروئین کے نشیب و فراز پر ٹن ہو گیا ؟ ایسے کون لکھتا ہے؟ تھوڑا رومانس ڈالو اس میں۔ ڈائجسٹ رائٹر بنو ڈائجسٹ رائٹر۔ 😎
میں: یہ لیجیے جناب
“اس کے جسم کی اٹھان اسے پاگل کیے جاتی تھی۔ وہ اس کے انگ انگ کو دیکھ کر سرشاری کی کیفیت میں ڈوب جاتا اور اس کا رواں رواں پگھلا جاتا۔اس پر شدت کی مستی چڑھی جاتی تھی۔ اس سے مزید یہ دوری سہی نہ جاتی تھی۔ وہ ملن کی کوئی راہ نکالنے کی سوچنے لگا”

وہ: شاباش۔ ڈائجسٹ رائٹر بننا کوئی آسان کام نہیں ہے ۔ محنت کرو محنت. تمہیں پتہ ہے نا ڈائجسٹ رائٹر بننا اتنا آسان نہیں ہے ۔ اب خود دیکھو یہ کیا لکھا ہے؟

میں : اجی سنیے خود ہی دفعان ہوتے ہیں یا ٹکٹ بک کراؤں بھاڑ کا؟

وہ: جی؟

میں: جی مجھے پتہ ہے ڈائجسٹ رائٹر بننا آسان نہیں ہوتا 😂😂😂 “بلاک”

#ڈائجسٹ رائٹر بننے کیلیے دماغ کی دہی کرنا ضروری ہوتا ہے۔ 👿👿👿👿👿