آؤ جھگڑیں

“آؤ جھگڑیں ”

شادی شدہ خواتین کو چاہیے کہ اپنے شوہر سے فضول بحث و مباحثہ میں الجھنے کی بجائے سیدھا جھگڑے کی بات پر آئیں۔۔ کیونکہ ازدواجی زندگی کا یہی وہ واحد میدان ہے جہاں انکی جیت یقینی ہے۔
لہذا جیسے ہی آپ انہیں گھر میں چین کا سانس لیتے دیکھیں۔۔سمجھ جائیے کہ اب جھگڑے کا وقت ہوا چاہتا ہے۔
ہمیشہ یاد رکھیں کہ مرد حضرات ایک ہی بات کو لے کر بار بار جھگڑا نہیں کر سکتے۔ یہ کوالٹی صرف آپ کے پاس ہے۔ لہذا “ٹاپک” کو لے کر بالکل مت گھبرائیں ۔
اگر جھگڑا انکی کسی غلطی کو لے کر کرنا ہے تو شروعات “دیکھا میں نے تو پہلے ہی کہا تھا” سے کریں۔۔اور اگر آپ سے کوئی غلطی ہو گئی ہے اور الزام ان کے سر ڈالنا ہے تو بات”آپ کو تو میری ذرا فکر نہیں ہے” سے شروع کریں ۔
جھگڑا کرتے ہوئے اس بات کا خاص خیال رکھیں کہ کہیں خدانخواستہ وہ آپ کی بات دھیان سے تو نہیں سن رہے۔
جھگڑے کا سب سے بہترین موقع انکے ٹی وی دیکھنے کا وقت ہے۔ تبھی دل کی بھڑاس اچھی طرح نکال لیں ۔اور جب وہ اچانک سے ہڑبڑاتے ہوئے ٹی وی سے نظریں ہٹا کر تھوڑا حیران ہو کر پوچھیں “ہیں کیا کہا؟”
تب دل ہی دل میں خوش ہوتے ہوئے پہلے تو فورا خدا کا شکر بجا لائیں کہ انہوں نے غلطی سے بھی آپ کی کوئی بات سن نہیں لی۔ اور پھر فورا منہ بسور کر بیٹھ جائیں۔ ایسے میں “ہاں ہاں سنتے ہی کہاں ہیں آپ میری؟ آپ کو میری قدر ہو تب نا! ” شاندار نتائج کا ضامن ہو سکتا ہے۔
بس اب وہ جتنا مرضی داڑھی مونچھ کا زور لگائیں آپ بھی لمبی چپ سادھ لیں۔۔۔ جیسے آپ نے رشتہ پکا ہوتے وقت منہ پر قفل لگا رکھا تھا ۔
اور جب وہ تھک کر دوبارہ ٹی وی کی طرف متوجہ ہوں تو حسب موقع پھر سے ایک آدھ سڑا ہوا جملہ پھینکا جا سکتا ہے۔ مگر یاد رہے کہ اس بار والیم کافی نیچا ہونا چاہیے۔۔آواز ان تک ہرگز نہ پہنچے۔۔۔
جھگڑے میں بلامقصد ایک ہی بات کو بار بار دہرانے کے بجائے “تابڑ توڑ” ورائٹی لے کر آئیں تاکہ پہلے سے لگے بندھے جواب دے کر وہ اپنا بچاؤ نہ کر سکیں ۔
جہاں الزام ان پر ڈالنا ممکن نہ ہو وہاں اپنی قسمت کی خرابی کو قصوروار ٹھہرائیں۔
نیز انہیں ہر دو جملوں کے بعد بتاتی رہیں کہ آپ کے بغیر ان کا گزارہ ناممکن ہے۔
دورانِ جھگڑا اگر دلائل ختم ہو جائیں تو شادی سے بھی پہلے کے گلے شکوے بیچ میں لے آئیں۔ اس سے وہ گھبرا کر اصل مدعا بھول بیٹھیں گے۔
جب اچھی طرح ٹائم پاس کر لیں یا جھگڑا کر کے تھک جائیں تو فوراً “بہت برے ہیں آپ” کہہ کر مان جائیں۔۔۔

نوٹ: ہر دو جھگڑوں میں کم از کم ایک ہفتے کا وقفہ ضرور دیں۔

Advertisements

نیلگوں گلاب

عالمی افسانہ میلہ 2018
افسانہ نمبر 136
نیلگوں گلاب
فاطمہ عمران ، لاہور ، پاکستان
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
وہ جھک کر نیلگوں ہوتا گلاب دیکھنے لگی۔اس نے پتیوں کو چھو کر باہر کی طرف موڑا۔ گلاب کے کناروں پر لال رنگ آہستہ آہستہ ضم ہو رہا تھا جبکہ اندر کی طرف نیلاہٹ واضح تھی۔ پھر اسکی نظر کیاری میں پڑی مٹی پر پڑی۔ گہرے رنگ کی مٹی دیکھ کر اسے یاد آیا کہ اسکا ہاتھ لگنے سے روشنائی کی بوتل میز سے گر کر ایک کونے سے ٹوٹ گئی تھی۔ہڑبڑا کر اس نے ٹوٹی ہوئی روشنائی کی بوتل اٹھائی اور کھڑکی سے باہر پھینک دی۔ وہی روشنائی اب اس گلاب کو نیلا کر رہی تھی۔
اس نے ایک ٹھنڈی سانس بھری اور اندر کی طرف چل دی۔
°°°° °°°°°
پچھلے نومبر کی بات ہے جب ان دونوں نے اپنے ہاتھوں سے اس گلاب کی کونپل زمین میں لگائی تھی۔ اور پہلے گلاب کی آمد کے ساتھ اس نے کہا تھا”مدھو! دیکھو تو اس گلاب کو نرمی تمہارے ہاتھوں سے ہی ملی ہے” اور وہ کھلکھلا کر ہنس دی تھی۔
“اس گلاب کا نام بھی مدھو ہونا چاہیے۔ تمہارے رخسار بھی اسکی طرح لال ہیں”
“چلو ہٹو۔۔بے شرم کہیں کے۔۔۔ مدھو نے شرما کر کہا۔
ویسے ماں نے اسے گلاب کی طرح ہی سینت سینت کر رکھا تھا۔ اسکی ممتا کی جھلک مدھو کے نام سے ہی چھلکتی تھی جو پچیس سال پہلے ماں نے اسے پیار سے گود میں لیتے ہی دیا تھا۔ماں کے بعد تو مدھو بالکل ہی اکیلی ہوجاتی اگر وہ نہ ہوتا۔ جب ماں زندہ تھی تو اس کا آنا بالکل پسند نہیں کرتی تھی۔ جانے کیوں ماں کو “محبت” لفظ سے ہی چڑ تھی .مگر مدھو کو بس سمجھاتی۔کبھی اسکی راہ کا کانٹا نہیں بنی کہ مبادا اتنے برسوں سے سنبھالا ہوا مدھو کا نازک دل ٹوٹ نہ جائے۔ماں کے بعد مدھو کا جی اکیلے گھبرا جاتا تو وہ مدھو اور اس گھر کی تنہائی بانٹنے اکثر آ جایا کرتا تھا اور اسکا جادو مدھو پر سر چڑھ کر بولتا۔
….. ۔۔۔۔ ۔
وہ بہت کتابی باتیں کیا کرتا تھا۔۔۔ اور مدھو انہیں محبتوں کی افسانوی باتیں کہا کرتی۔۔ “محبت ہر قید سے آزاد ہے۔۔۔محبت کی کوئی سرحد نہیں ہوتی۔۔۔ محبت میں سب جائز ہے.. محبت ایک پاکیزہ جذبہ ہے ”
اور اس طرح کی ہزاروں باتیں جو مدھو کے کمرے میں شیلف پر رکھی محبت کی ہر دوسری کتاب میں لکھی تھیں۔
“مجھ سے محبت کا مطلب جانتے ہو؟”
مدھو کسی انجانے خوف سے گھبرا کر کہتی۔۔۔
“محبت جنس کی قید سے بھی آزاد ہے۔میری پیاری مدھو۔۔دنیا تمہیں جو مرضی کہے مگر میرے لیے تم صرف میری محبوبہ ہو اور میں تمہارا چاہنے والا”
اس کے پاس جیسے مدھو کے ہر سوال کا جواب تھا۔۔
“مگر جس محبت کی بنیاد تم رکھ رہے ہو ۔۔اسے قبول نہیں کیا جائے گا۔ تم مجھے چھوڑ تو نہ جاؤ گے؟”
مدھو اسکی آنکھوں میں دیکھ کر کہتی اور وہ اس کے ہونٹوں پر انگلی رکھ دیتا۔
۔۔۔
جاڑے کی ہی کسی دوپہر اس نے مدھو کے ہاتھ میں وہ لفافہ پکڑایا۔
“یہ کیا ہے؟” مدھو نے پوچھا
میری شادی کا کارڈ”
“شادی؟”
“مگر تم تو مجھ سے محبت کرتے تھے؟”
“ہاں۔ ”
“تم تو کہتے تھے کہ محبت ہر قید سے آزاد ہوتی ہے؟”
“ہاں”
“پھر شادی”؟”
“دیکھو محبت نہیں صرف شادی کر رہا ہوں ۔ویسے بھی تم سے شادی کر کے بچے تو نہیں پیدا کر سکتا نا. اس کے لیے تو شادی کرنا ہی پڑے گی۔”
“مگر میرا کیا ہو گا؟” اس کے لہجے میں التجا تھی۔۔
تم سے محبت تو میں ہر حال میں کرتا ہی رہوں گا۔ میں نے تم سے پہلے بھی کہا تھا محبت جنس کی قید سے آزاد ہے میری پیاری مدھو۔۔۔”
مدھو دم سادھے اس کے چہرے کی جانب دیکھتی رہی۔ اس کے ہونٹوں سے ادا ہوتے یہ الفاظ مدھو کے کانوں سے ہوتے ہوئے اس کے جسم میں زہر بن کر اتر رہے تھے اور اسے لگ رہا تھا کہ یہ کڑوا زہر آہستہ آہستہ اس کے جسم میں سرایت کر رہا ہے۔ اتنا زہر تو تب بھی اس کے جسم میں نہیں اترا تھا جب اسکی سگی ماں نے اسے پیدا ہونے کے دوسرے ہی روز گرو ماں کی گود میں ڈال دیا اور گرو ماں نے اسے گلے سے لگا لیاتھا۔ گرو ماں نے دنیا کی ہر آسائش اسکی جھولی میں ڈال دی۔مگر ہونی کو گروماں بھی کیسے ٹال سکتی تھی بھلا۔ یہ زہر تو اسے کبھی نہ کبھی پینا ہی تھا۔۔۔
مدھو کو اچانک وہ نیلگوں ہوتا گلاب یاد آ گیا۔ اور اس کے ہونٹوں سے ایک سسکاری سی نکلی ” سالا! ہیجڑہ کہیں کا”!!!

باغی ہوں میں

بزرگان خاندان کی آنکھوں میں ہم بچپن سے ہی کھٹک رہے ہیں کہ جن چیزوں کو ہم عیاشی مانتے ہیں وہ انکے لئیے عین فحاشی کے زمرے میں آتی ہیں۔
ہمارے ایک ماموں چھٹی جماعت میں ہم پر بہت برہم ہوئے کہ لڑکی ہو کر تاش کھیلتی ہے۔ بعد میں پتہ چلا کہ کمپیوٹر پر solitaire کھیلتے دیکھ لیا تھا۔۔۔
اب سوچیں اگر انہیں ہمارا سوشل میڈیا دکھا دیا جائے تو غش کھا کر گر نہ پڑیں گے کیا ۔۔
اصل اعتراض ہمیں اس بات پر ہے کہ خاندان بھر میں مرد و زن کیلیے فحاشی کے معیار بلکل الگ ہیں۔بچپن میں جب وی سی آر کا زمانہ ہوتا تھا تو کوئی بھی فلم پہلے مرد حضرات دیکھتے پھر پاس ہو کر خواتین کو دیکھنے کی اجازت ملتی۔کیوں بھئی؟ تب ہماری آنکھوں کے سامنے دل جلے فلم کا ایک گانا “شام ہے دھواں دھواں” یہ کہہ کر فارورڈ کر دیا گیا کہ اس میں فحاشی ہے۔۔۔
زمانہ ہی کچھ ایسا تھا کہ اخبار کے فلمی صحفے پرفلموں کے اشتہارات میں ہیروئین کے گلے سے امڈتے ابال کو مارکر سے کالا کر کے فحاشی کو عیاشی میں بدلنے کی ناکام کوشش کی جاتی تھی۔
کچھ بزرگانِ خاندان کا کمال تھا اور کچھ مشرق و مغرب کا تضاد کہ وہاں فحاشی کے معیار ہم سے بالکل الگ ہیں۔ انکے ہاں کپڑے پہننا بھی وبال ہے جبکہ ہمارے ہاں اس پر کفر کا فتوی لگنے کا احتمال ہے۔
بس دین و دنیا کی اسی کشمکش میں ہم فحاشی و عیاشی دونوں سے ہی کچھ “محروم و مرحوم”
سے رہے۔۔۔
عیاشی کی کبھی ہماری اوقات نہ بن سکی اور فحاشی کیلیے اٹھارہ سال تک انتطار کرنا کٹھن لگا یہاں تک کہ خواہش نے دم دے دیا۔
جب ہر طرح سے ہمیں دبانے کی کوشش کی گئی تو سارے جذبات نتیجتا بدمعاشی کے راستے باہر نکل آئے اور یوں ہمیں باغی کا خطاب دے دیا گیا۔

اے دلِ بےتاب

بسلسلہ : اک لفظ محبت کا
اکتوبر تا نومبر 2018
افسانہ نمبر 47
“اے دلِ بیتاب”
تحریر : فاطمہ عمران ، لاہور
**************
آفس میں سبھی ملازمین کیلئے بغیر چھت کے، نیچی دیواروں والا الگ کیبن بنا ہوا تھا۔ ہر کیبن کی دو دیواریں شیشے کی تھیں جس کے آر پار دیکھا جا سکتا تھا ۔اس طرح ان کی کام کرتے وقت تنہائی اور یکسوئی بھی متاثر نہ ہوتی اور وہ سب خود کو ایک ہی ماحول کا حصہ بھی محسوس کرتے۔
طلال سے دو کیبن کی دوری پر سدرہ کا کیبن تھا۔ جس کی نگاہیں ہر روز طلال کے آنے کی منتظر رہتیں۔ اسے کبھی طلال سے بات کرنے کی ہمت نہ ہوئی تھی۔ویسے بھی طلال لیے دیے رہنے والا ایک کم گو انسان تھاجو بہت کم گھلتا ملتا تھا۔ سدرہ نے آفس میں اسے صرف چند ہی لوگوں سے بات کرتے دیکھا تھا۔ اس کے علاوہ زیادہ تر وقت وہ اپنی اداس آنکھوں کے ساتھ کسی سوچ میں مگن رہتا۔
“رومیو کو جولیٹ اور مجنوں کو لیلی کیلئے دیوانہ ہوتے تو دیکھا ہے مگر یہ پہلی ہیر ہے جو رانجھے کی محبت میں پگلا گئی یے۔”
شمع نے سدرہ کو چھیڑا تو وہ گڑبڑا کر طلال سے نظریں ہٹا کر سامنے پڑی فائل دیکھنے لگی۔
“نہیں تو”
“جیسے ہماری تو آنکھیں ہی نہیں ہیں۔. جس طرح تم اسے گھورتی ہو نا۔اگر کوئی آدمی یہ حرکت کرے تو فورا خواتین کی نظر میں مشکوک قرار پائے. سارے آفس کو پتہ چل چکا ہےمیڈم.ذرا دو منٹ نظریں ہٹا بھی لیا کریں”
شمع نے کہا تو سدرہ سے کوئی جواب نہ بن پڑا .
“تو تم ہی بتاؤ کیا کروں ۔ سارے آفس کو خبر ہو چکی مگر وہ ہے ۔۔۔کہ اتنا انجان ۔۔۔اسے تو معلوم بھی نہ ہو گا کہ میں اس آفس میں کام بھی کرتی ہوں”
سدرہ نے ہار مان کر گویا اقرار ساکر لیا۔ ویسے بھی وہ شمع کے قریب تھی۔اور دونوں آپس میں خوب سہیلیاں بن چکیں تھیں۔ سدرہ کو آفس جوائن کیے ابھی سال ہی ہوا تھا۔ جبکہ شمع تین سال سے وہیں کام کر رہی تھی۔
“اچھا چلو کافی پینے چلتے ہیں۔ وہیں بیٹھ کر باتیں کریں گے”
شمع سدرہ کا ہاتھ پکڑ کر اسے تقریباً کھینچتی ہوئی کیفےٹیریا لے گئی۔
— —- —-
کاونٹر سے کافی لے کر دونوں کونے میں پڑی ایک میز کیطرف چلی گئیں۔
“اب بتاؤ۔ کیا ماجرا ہے لڑکی؟ تمہیں ذرا بھی خیال ہے کہ تم کیا کر رہی ہو؟ تمہارے اس طرح گھورنے سے آفس کے لوگ باتیں بناتے ہیں ۔”
بیٹھتے ہی شمع نے کہا تو سدرہ بولی ” بنانے دو۔ لوگوں کو اور آتا ہی کیا ہے۔ میں بھی کیا کروں۔ میرا بس نہیں چلتا۔ اس کی اداس آنکھیں دیکھی ہیں۔ میرا دل کرتا ہے کہ وہ میرے سامنے بیٹھا رہے اور میں اسکی اداس آنکھوں کی ساری اداسی چن کر اپنے دامن میں بھرتی رہوں۔ اسکی پیشانی کسی سورج کی مانند چمکتی ہے۔۔ اور اسکے ہونٹ۔۔۔اتنے خاموش جیسے کسی نے ان کو واقعی سی رکھا ہو۔ اس کے ہونٹوں پر کبھی ہلکی سی مسکان بھی نہیں آتی ۔۔۔ جیسے کہیں کوئی گرہ ہو۔۔جو اسے ہنسنے بھی نہیں دیتی”
“توبہ توبہ! تمہارا دماغ خراب لگ رہا ہے مجھے۔ آدمیوں کو تو میں نے محبت میں حسن کی تعریف کرتے دیکھا ہے مگر تم لڑکی ہو کر ایسے نین نقش بیان کر رہی ۔۔۔مجھے تو ہنسی آ رہی ہے”
شمع نے بات مذاق میں اڑا دی تو سدرہ چپ ہو کر کافی سے اٹھتا دھواں دیکھنے لگی۔
تبھی شمع نے محسوس کیا کہ سدرہ سنجیدہ ہے۔ شمع بھی سنجیدہ ہو گئی اور بولی “دیکھو سدرہ میری بات کا برا نہ منانا۔مگر تم خود بتاؤ کہ یک طرفہ محبت کا کیا انجام ہوتا ہے؟ اور وہ بھی ایک ایسی لڑکی کی محبت جس میں اتنی ہمت بھی نہیں کہ جا کر اس آدمی سے بات ہی کر لے جسے گھنٹوں بیٹھی وہ گھورتی رہتی ہے۔ یہ محبت کہیں تمہیں رسوا نہ کر دے”
” مگر تم ہی بتاؤ کہ میں اس سے جا کر کیا بات کروں؟”
سدرہ نے کہا تو اب کی بار شمع چپ ہو گئی اور اندر ہی اندر خوفزدہ بھی۔۔۔
“اوہ میری پیاری دوست ۔۔مجھے تمہارا دل ٹوٹنے کے خیال سے بھی خوف آ رہا ہے۔ تمہاری یہ محبت.. ”
سدرہ نے بیچ میں ہی ٹوک دیا
” محبت نہیں عشق کہو۔ مجھے اس سے عشق ہو گیا ہے اور تمہیں کیا لگ رہا ہے کہ وہ مجھے حاصل نہ ہو گا تو میرا دل ٹوٹ جائے گا۔نہیں میری دوست۔ میرا دل نہیں ٹوٹے گا بلکہ میری سانس کی ڈور ٹوٹ جائےگی ۔عشق میں محبوب کے ملن کی چاہ سے بڑھ کر اور کیا چاہ ہو گی بھلا۔مجھے تو آفس میں طلال کے ہونے کا احساس ہی زندہ رکھتا ہے۔ اگر مجھے یوں ہی اس کو دیکھنے کا شرف حاصل رہے تو میں سمجھوں گی کہ میری محبت لاحاصل نہیں رہی”
سدرہ بس کہے جا رہی تھی اور شمع سن رہی تھی۔
“عجیب پاگل لڑکی ہو تم بھی۔اچھا ویسے اتنے عرصے میں میں نے اسے کسی کے ساتھ گھلتے ملتے تو نہیں دیکھا ۔مگر اب دھیان رکھوں گی ۔ ویسے بھی میرے پاس تمہاری طرح یک طرفہ محبت نہیں نا۔۔۔سارا وقت جواد کے میسجز کے جواب دیتے گزر جاتا ہے۔ اس لیے کبھی زیادہ اتفاق بھی نہیں ہوا کہ آفس میں کسی کے متعلق ذاتی طور پر جان سکوں مگر تمہارے لیے پتہ کرنے کی کوشش ضرور کروں گی”
شمع نے کہا تو سدرہ نے مشکور نظروں سے اسے دیکھا۔کافی پینے کے بعد دونوں واپس اندر آفس چلی گئیں ۔
۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔
اگلے ہی دن سے شمع نے اپنی کوششیں شروع کر دیں۔ اور مخلتف بہانوں سے اپنے ساتھی کولیگز سے طلال کے بارے میں معلومات اکٹھی کرنے لگی۔ تبھی کسی نے خبر سنائی کہ طلال کی ایک منگیتر بھی ہے۔ شمع اس خبر کو سن بے چین ہو گئی اور زیادہ دیر رک نہ سکی۔ سدرہ کو بتانا بھی ضروری تھا۔اسے معلوم تھا کہ یہ خبر ہضم کرنا سدرہ کیلیے اتنا آسان نہ ہو گا۔ لیکن اس سے چھپانا بھی تو ممکن نہ تھا۔ وہ پہلے ہی دیوانگی کی حدوں کو چھو رہی تھی۔نجانے یہ خبر سن کر کیا کرے؟ اسی شش و پنج میں شمع سدرہ کے کیبن پہنچی۔ سدرہ کیبن میں موجود نہ تھی۔ شمع نے دل ہی دل میں شکر ادا کیا کہ سدرہ کو یہ “بری” خبر سنانا تھوڑی دیر کیلئے ٹل گیا ہے۔ شمع وہیں بیٹھ گئی تاکہ سدرہ کو یہ خبر سنانے اور پھر اسے سنبھالنے کیلیے لائحہ عمل طے کر سکے۔
انہیں سوچوں میں گم شمع کی توجہ اچانک ایک بیپ نے اپنی طرف کر لی۔ اس نے فائل اٹھا کر دیکھا تو نیچے سدرہ کا سیل فون پڑا تھا۔ اور سکرین پر ایک میسج جگمگا رہا تھا۔ ابتدائی الفاظ دیکھ کر شمع نے میسج کھول لیا۔”آئی لو یو ٹو میری جان۔ مجھے تمہاری محبت پر ذرہ برابر شک نہیں ۔اب کی بار ملیں گے تو تمہیں تمہاری پسندیدہ کون کھلاؤں گا”
شمع حیرت سے کافی دیر موبائل سکرین دیکھتی رہی۔ جس پر محبت بھرے میسجز کا تسلسل سےانبار لگا ہوا تھا۔
— — —

نیلگوں گلاب

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
وہ جھک کر نیلگوں ہوتا گلاب دیکھنے لگی۔اس نے پتیوں کو چھو کر باہر کی طرف موڑا۔ گلاب کے کناروں پر لال رنگ آہستہ آہستہ ضم ہو رہا تھا جبکہ اندر کی طرف نیلاہٹ واضح تھی۔ پھر اسکی نظر کیاری میں پڑی مٹی پر پڑی۔ گہرے رنگ کی مٹی دیکھ کر اسے یاد آیا کہ اسکا ہاتھ لگنے سے روشنائی کی بوتل میز سے گر کر ایک کونے سے ٹوٹ گئی تھی۔ہڑبڑا کر اس نے ٹوٹی ہوئی روشنائی کی بوتل اٹھائی اور کھڑکی سے باہر پھینک دی۔ وہی روشنائی اب اس گلاب کو نیلا کر رہی تھی۔
اس نے ایک ٹھنڈی سانس بھری اور اندر کی طرف چل دی۔
°°°° °°°°°
پچھلے نومبر کی بات ہے جب ان دونوں نے اپنے ہاتھوں سے اس گلاب کی کونپل زمین میں لگائی تھی۔ اور پہلے گلاب کی آمد کے ساتھ اس نے کہا تھا”مدھو! دیکھو تو اس گلاب کو نرمی تمہارے ہاتھوں سے ہی ملی ہے” اور وہ کھلکھلا کر ہنس دی تھی۔
“اس گلاب کا نام بھی مدھو ہونا چاہیے۔ تمہارے رخسار بھی اسکی طرح لال ہیں”
“چلو ہٹو۔۔بے شرم کہیں کے۔۔۔ مدھو نے شرما کر کہا۔
ویسے ماں نے اسے گلاب کی طرح ہی سینت سینت کر رکھا تھا۔ اسکی ممتا کی جھلک مدھو کے نام سے ہی چھلکتی تھی جو پچیس سال پہلے ماں نے اسے پیار سے گود میں لیتے ہی دیا تھا۔ماں کے بعد تو مدھو بالکل ہی اکیلی ہوجاتی اگر وہ نہ ہوتا۔ جب ماں زندہ تھی تو اس کا آنا بالکل پسند نہیں کرتی تھی۔ جانے کیوں ماں کو “محبت” لفظ سے ہی چڑ تھی .مگر مدھو کو بس سمجھاتی۔کبھی اسکی راہ کا کانٹا نہیں بنی کہ مبادا اتنے برسوں سے سنبھالا ہوا مدھو کا نازک دل ٹوٹ نہ جائے۔ماں کے بعد مدھو کا جی اکیلے گھبرا جاتا تو وہ مدھو اور اس گھر کی تنہائی بانٹنے اکثر آ جایا کرتا تھا اور اسکا جادو مدھو پر سر چڑھ کر بولتا۔
….. ۔۔۔۔ ۔
وہ بہت کتابی باتیں کیا کرتا تھا۔۔۔ اور مدھو انہیں محبتوں کی افسانوی باتیں کہا کرتی۔۔ “محبت ہر قید سے آزاد ہے۔۔۔محبت کی کوئی سرحد نہیں ہوتی۔۔۔ محبت میں سب جائز ہے.. محبت ایک پاکیزہ جذبہ ہے ”
اور اس طرح کی ہزاروں باتیں جو مدھو کے کمرے میں شیلف پر رکھی محبت کی ہر دوسری کتاب میں لکھی تھیں۔
“مجھ سے محبت کا مطلب جانتے ہو؟”
مدھو کسی انجانے خوف سے گھبرا کر کہتی۔۔۔
“محبت جنس کی قید سے بھی آزاد ہے۔میری پیاری مدھو۔۔دنیا تمہیں جو مرضی کہے مگر میرے لیے تم صرف میری محبوبہ ہو اور میں تمہارا چاہنے والا”
اس کے پاس جیسے مدھو کے ہر سوال کا جواب تھا۔۔
“مگر جس محبت کی بنیاد تم رکھ رہے ہو ۔۔اسے قبول نہیں کیا جائے گا۔ تم مجھے چھوڑ تو نہ جاؤ گے؟”
مدھو اسکی آنکھوں میں دیکھ کر کہتی اور وہ اس کے ہونٹوں پر انگلی رکھ دیتا۔
۔۔۔
جاڑے کی ہی کسی دوپہر اس نے مدھو کے ہاتھ میں وہ لفافہ پکڑایا۔
“یہ کیا ہے؟” مدھو نے پوچھا
میری شادی کا کارڈ”
“شادی؟”
“مگر تم تو مجھ سے محبت کرتے تھے؟”
“ہاں۔ ”
“تم تو کہتے تھے کہ محبت ہر قید سے آزاد ہوتی ہے؟”
“ہاں”
“پھر شادی”؟”
“دیکھو محبت نہیں صرف شادی کر رہا ہوں ۔ویسے بھی تم سے شادی کر کے بچے تو نہیں پیدا کر سکتا نا. اس کے لیے تو شادی کرنا ہی پڑے گی۔”
“مگر میرا کیا ہو گا؟” اس کے لہجے میں التجا تھی۔۔
تم سے محبت تو میں ہر حال میں کرتا ہی رہوں گا۔ میں نے تم سے پہلے بھی کہا تھا محبت جنس کی قید سے آزاد ہے میری پیاری مدھو۔۔۔”
مدھو دم سادھے اس کے چہرے کی جانب دیکھتی رہی۔ اس کے ہونٹوں سے ادا ہوتے یہ الفاظ مدھو کے کانوں سے ہوتے ہوئے اس کے جسم میں زہر بن کر اتر رہے تھے اور اسے لگ رہا تھا کہ یہ کڑوا زہر آہستہ آہستہ اس کے جسم میں سرایت کر رہا ہے۔ اتنا زہر تو تب بھی اس کے جسم میں نہیں اترا تھا جب اسکی سگی ماں نے اسے پیدا ہونے کے دوسرے ہی روز گرو ماں کی گود میں ڈال دیا اور گرو ماں نے اسے گلے سے لگا لیاتھا۔ گرو ماں نے دنیا کی ہر آسائش اسکی جھولی میں ڈال دی۔مگر ہونی کو گروماں بھی کیسے ٹال سکتی تھی بھلا۔ یہ زہر تو اسے کبھی نہ کبھی پینا ہی تھا۔۔۔
مدھو کو اچانک وہ نیلگوں ہوتا گلاب یاد آ گیا۔ اور اس کے ہونٹوں سے ایک سسکاری سی نکلی ” سالا! ہیجڑہ کہیں کا”!!!

ملکیت

 

اس کے چاروں طرف آندھیاں چل رہی تھیں۔ کالک کا احساس اتنا گہرا تھا جیسے گھپ اندھیرا دھواں بن کر دھیرے دھیرے اس کی روح سیاہ کرتا ہو۔ آنکھوں سے بہتے سیال کی گرمی اسکے وجود کو چھلنی کر رہی تھی۔
ہر قطرہ ۔ ۔ ٹپ سے گرتا اور روح پر ایک گھاؤ ۔ ایک نشان۔ ۔ ایک اذیت چھوڑ جاتا۔ مشکل تو یہ تھی کہ وہ اس اذیت کا پرچار بھی نہیں کر سکتی تھی۔ کسی سے غم بانٹ کر آدھا بھی نہیں ہو سکتا تھا۔
دلہن کو منہ دکھائی میں کیا ملا؟ سرگوشیوں میں کیا بیان ہوا؟
محبتوں میں گندھے وفا کے عہد و پیمان۔ ۔
بند دروازوں کے پیچھے نرم گداز رازوں کا لین دین ۔ ۔
سکھیاں صبح ہوتے ہی افشاء ہونے کا انتظار کیا کرتی ہیں اور پور پور نشےمیں ڈوبی سہاگن کبھی غرور سے۔ ۔ کبھی نخرے بھری ادا سے اور کبھی مان سے۔ ۔ کچھ کہتے کہتے لب روک لیتی ہے۔ اس کی دھیمی مسکان۔ ۔ پلکوں پر گرتی حیا کی چلمن سے کچھ کچھ ان کہے راز کہہ دیتی ہے۔ اور دلہن اپنے آپ میں سمٹ کر لال ہو جاتی ہے۔
مگر وہ کیا بتائے گی سکھیوں کو صبح؟ کہ اسے منہ دکھائی میں گالی ملی ہے؟
۔ ۔ ۔
قسمت نے دوسری بار عروسی جوڑا پہننے کا موقع دیا تھا۔ کئی کنواری لڑکیاں اسکی کلائی پھر سے کھنکتی چوڑیوں سے بھر جانے پر حسد اور رشک میں مبتلا تھیں۔ مگر حجلہ عروسی میں اس پر کسی غیر مرد کے “زیر استعمال” رہنے کی وجہ سے اسے “استعمال شدہ” عورت ہونے کا طوق ملا تھا۔ ۔
۔ ۔
لیکن وہ غیر مرد تو اسکا شوہر تھا ۔ پہلا شوہر۔ ۔ سب کی مرضی اور خوشی سے اس کی زندگی میں شامل ہونے والا شخص۔ ۔ اس کی سانسوں تک پر مالکانہ حقوق رکھنے والا وہ شخص غیر تو نہیں تھا۔ پھر اس کے نام کا ٹیکا آج گالی بنا کر کیوں اس کے ماتھے پر سجایا گیا؟
اور وہ “غیر” شخص جب کفن میں اسکے سامنے لایا گیا تب بھی سفید جوڑا زیب تن کرنے اور سونی کلائیوں میں سناٹے بھرنے میں اسکی مرضی شامل نہیں تھی۔ ہرگز نہیں تھی۔ وہ تو پورے من سے اسکی تھی۔ ایک ایک سانس اسکے نام کر چکی تھی۔
مگر سب نوچ کر پھینک دینا پڑا۔ اور وہ کر بھی کیا سکتی تھی؟۔ اس کے بس میں نہیں تھا ساری عمر ایک ہی نام کی مالا جپنے کا حق رکھنا۔ ۔ ۔کہ ابھی تو بھری جوانی تھی اور عمر بیتنے میں عرصہ پڑا تھا ۔ ۔
نیا عروسی جوڑا بدن پر سجانے سے پہلے اس نے پوری ایمانداری سے پہلی یاد بھی دل کے کسی کونے میں پھینک چھوڑی۔ بھُلا دینا تو اس کے بس میں نہ تھا لیکن چھپا لینے پر اسکا پورا اختیار تھا۔ دل کے ایک گوشے میں اس نے ایک حصہ ان یادوں کے نام مخصوص کرنے کے بعد انہیں وہیں بند کر کے قفل لگا دیا تاکہ ماضی کی پر چھائیاں کہیں اسے حال اور مستقبل سے غافل نہ کر دیں۔
نئے سپنوں کے جگنو ایمانداری سے آنکھوں میں ٹانک کر وہ ایک بار پھر پیا سنگ چل پڑی۔ مگر یہ راہ تو ہمسفر کے ساتھ ہونے کے باوجود بھی دشوار تھی۔ اتنی خاردار منہ دکھائی نے اسکی روح تک نوچ ڈالی تھی۔ ۔
اسے اچھی طرح جتا دیا گیا کہ اب اسے جیسے چاہے روندا جا سکتا ہے کیونکہ وہ پہلے سے کسی اور کے ساتھ ملن کی راہوں کی مسافر رہی ہے۔
اب اسے کوئی نازک کلی کی طرح سینت سینت کر نہیں رکھے گا۔
وہ پھر سے کسی کے دل کے سنگھاسن پر براجمان نہیں ہو سکتی۔ کیوں کہ اب وہ دوسری سہاگن تھی۔ ۔دوسری عورت کی طرح بےکار سمجھی جانے والی۔ ۔
اسے احساس ہوا اسکا تخت و تاج بھی اس غیر مرد کے ساتھ منوں مٹی تلے دفنا دیا گیا ہے۔
مگر نئی سلطنت کی ملکیت بھی تو اس کی تھی ۔ ۔ پھر کیوں؟
اس کا انگ انگ چیخ رہا تھا ۔ کیوں؟ کیوں۔ ۔؟ آخر کیوں؟
صبح سکھی نے کندھے پر دوپٹہ ٹھیک کرتے ہوئے گردن پر گہرے نشان نظر انداز کرنے کی اداکاری کرتے ہوئے مسکرا پوچھا “دلہا میاں کیسے لگے؟”
تو لبوں کو جوڑ کر “بہت اچھے” کہتے ہوئے۔ ۔ ۔
پہلی محبت۔ ۔ پہلی چاہت ۔ ۔ پہلے اظہار اور پہلے پیار کے ساتھ ساتھ “پہلی عورت” ہونا بھی کتنا ضروری تھا اس کا اندازہ اسکی جھکی آنکھوں کے لال ڈوروں میں دیکھ کر لگانا مشکل تھا

تیرھواں گھنٹہ

پچھلے چار پانچ دن سے وہ اضطراب سا محسوس کر رہا تھا۔ ایک عجیب سی بے چینی اور احساس اسے گھیر لیتا۔ ایسے لگتا جیسے دو آنکھیں اسکا تعاقب کر رہی ہیں۔ وہ ادھر ادھر دیکھتا مگر ہجوم میں سمجھ نہ پاتا کہ کس کی آنکھیں اسکا طواف کر رہی ہیں۔ آج تو اس نے پی بی کم تھی۔ ہلکے ہلکے سرور میں اچانک اسکی نگاہ ایک آدمی پر پڑی جو بظاہر سب سے لاتعلق دور کھڑا نیچے زمین پر اپنے جوتوں کو گھور رہا تھا۔پھر اس نے نیچے بیٹھ کر جوتوں سے کچھ جھاڑنا شروع کر دیا۔ زآرعون اٹھا اور ایک انجانے سے جذبے کے زیر اثر اس کی طرف کھچتا چلا گیا۔ اس آدمی نے نظر اٹھا کر دیکھا اور مسکراتے ہوئے بولا “ہیلو ینگ مین ! تو تم نے مجھے ڈھونڈ ہی لیا۔ “کون ہو تم؟” زآرعون بولا
“مددگارہوں تمہارا” اس آدمی نے متانت سے جواب دیا۔لیکن زآرعون سنی ان سنی کرتے ہوئے بولا۔
“تم مجھے گھور کیوں رہے تھے اتنے دنوں سے؟”
“میرے پیچھے آؤ ۔سب بتاتا ہوں”
اور ہلکے ہلکے سرور میں ڈوبا زآرعون اسکے پیچھے چل پڑا۔ ہوٹل سے نکل کر دونوں سڑک پر آ گئے۔ کئی گلیاں اور موڑ مڑنے کے بعد وہ آدمی اسے ایک اندھی گلی میں لے آیا جہاں نسبتا اندھیرا تھا۔ زآرعون نشے میں تھا لیکن ابھی اتنا بھی بیگانہ نہ ہوا تھا کہ اسکا ماتھا نہ ٹھنک جاتا
” کون ہو تم؟ کیا چاہتے ہو؟ میرے پاس کوئی رقم نہیں جسے تم لوٹنا چاہتے ہو۔”
اس آدمی نے زآرعون کی بات پر کوئی ردعمل نہ ظاہر کیا اور دھیمے سے بولا۔
“میں ‘ہیلر'(healer) ہوں۔ کائنات کے شگاف بھرتا ہوں۔ ”
اسکی بات زآرعون کو مضحکہ خیز لگی اور اب کی بار وہ نسبتاً لڑکھڑاتے ہوئے بولا۔ ۔ “دوست میں دل کے شگاف نہیں بھر پا رہا اور تم کائنات کے شگاف بھر رہے ہو۔ واہ ”
” تم چاہو تو میں تمہاری مدد کر سکتا ہوں” اجنبی بولا۔
“کیسی مدد؟تم کیا جانو مجھے کیا چاہیے۔؟”زآرعون نے تنک کر کہا۔
“تمہیں تاشی کا ساتھ واپس چاہیے”
زآرعون نشے ، حیرانی اور شک کی کیفیات کے بیچ ڈول گیا۔اور خالی خالی نظروں سے اس آدمی کو گھورنے لگا۔اس آدمی نے اپنی بات جاری رکھی” اگر تمہیں میری مدد چاہیے تو ٹھیک دو دن بعد یہیں ملنا” اور اسکے بعد لمبے لمبے ڈگ بھرتا ہوا نظروں سے اوجھل ہو گیا۔ اسکے بعد زآرعون کو کچھ ہوش نہ رہا۔ آنکھ کھلی تو خود کو بستر پر پایا۔ ذہن پر زور دینے کے باوجود اسے کچھ یاد نہ تھا کہ وہ گھر کیسے پہنچا؟ لیکن اس آدمی سے ملاقات کا حرف بحرف اسے یاد تھا۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔ ۔۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔۔۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔
کیا نہیں تھا اسکے پاس؟ سب کچھ تو تھا۔ بس ایک دل ہی نہ تھا پہلو میں. نہیں نہیں دل بھی تھا۔ مگر اس دل میں حرارت نہیں تھی ۔ ۔ ۔ جذبات کی۔ ۔ ایسے دل کو بنجر دل کہنا ٹھیک ہو گا۔لیکن یہ دل ہمیشہ سے بنجر نہیں تھا۔کبھی اس میں محبت کی ہریالی تھی۔ جذبات کی مہک تھی اور لاتعداد شگوفے تھے جو تاشی کو دیکھتے ہی ایک نہ سنائی دینے والی ‘پٹک’ کے ساتھ پھوٹ پڑتے۔ تاشی کے سنگ زندگی اتنی حسین تھی کہ مستقبل کے سنہرے سپنوں میں گم روشن حال کی رعنائیاں سمیٹتے ہوئے اسے معلوم ہی نہ پڑا کہ کب اسکی دنیا اچانک درہم برہم ہو گئی۔ تاشی نے طلاق مانگی تھی۔
“مجھے تم سے طلاق چاہیے۔ میں تمہارے ساتھ مزید گزارا نہیں کر سکتی۔” یہ الفاظ نہیں بم تھے اور اس کے منہ سے بس اتنا ہی نکلا “کیا؟؟” حالانکہ وہ “کیوں؟” کہنا چاہتا تھا۔ مگر اس کیوں کی گتھی بھی تاشی نے خود ہی سلجھا دی۔ “دیکھو زآرعون ۔ہم ایک دوسرے کے لیے نہیں بنے۔ جانتے ہو میں تم سے کہتی تھی کہ میاں بیوی پزل کے دو ٹکڑے ہوتے ہیں۔ ایک کی کمی کو دوسرا پورا کرتا ہے مگر تمہارے پاس ایسا کوئی ٹکڑا نہیں جو میرے خلا کو بھر سکے۔ ”
اور اسکے بعد تمام الفاظ نے اپنی تاثیر کھو دی۔ تاشی یک لخت اسکے سارے جذبات بےرونق کر گئی۔ وہ کیا کرتا؟ بےوفائی کا علاج نہیں بس مرہم ہوتا ہے۔ اور یہی مرہم ڈھونڈنے وہ روز اس ہوٹل سے ملحقہ بار میں آ جاتا تھا۔ اور تب تک جام تنہائی اپنے اندر انڈیلتا جاتا جب تک ہوش و خرد سے بیگانہ نہ ہو جاتا۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔ ۔ ۔ ۔
دن بھر وہ اجنبی سے ملاقات کے بارے میں سوچتا رہا اور رات ہوتے ہی تاشی کا غم پھر سے اس کے سنگ تھا۔ نشے میں اس نے چلانا شروع کر دیا ۔”او تاشی تم مجھے کیوں چھوڑ کر چلی گئی۔ تم کہتی تھی نا کہ میاں بیوی دو ساز ہیں ۔ ۔ انکے تال میل سے ہی زندگی کا گیت سر بکھیرتا ہے تو پھر تم نے میرا گیت کیوں ادھورا چھوڑ دیا؟یہ دیکھو آج بھی میرے پاس وہ ٹشو پیپر محفوظ ہے جس پر تمہاری انگلی پر کٹ لگ جانے کیوجہ سے نکلنے والا خون محفوظ ہے۔ دیکھو دیکھو یہ دیکھو۔ جیب سے ٹشو پیپر نکال کر وہ ہسٹریائی انداز میں خود کلامی کرتا جا رہا تھا۔
۔ ۔ ۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔۔ ۔ ۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
تیسرے دن وہ جلدی جلدی تیار ہو کر ہوٹل جا پہنچا۔ اس دن نشے کی کیفیت میں اسے راستے صحیح سے یاد نہیں تھے اس لیے اسے پورا یقین تھا کہ وہ آدمی اسے ہوٹل میں مل جائے گا۔ اور اسکا یقین صحیح ثابت ہوا۔ ایک گھنٹے کے انتظار کے بعد اسے وہ آدمی دکھائی دے گیا۔ اس آدمی نے بھی اسے دیکھ کر اشارہ کیا۔ اور وہ اٹھ کر اس آدمی کے ساتھ چل پڑا۔ آج زآرعون نشے میں نہیں تھا سو اس آدمی سے اس دن جو بہت کچھ پوچھنا رہ گیا تھا وہ آج سارا کا سارا پوچھ لینا چاہتا تھا۔
سڑک پر اکا دکا لوگ ہی نظر آ رہے تھے۔ چلتے چلتے وہ آدمی اسی گلی میں جا کر رک گیا۔ زآرعون پھر سے پوچھنے ہی والا تھا کہ وہ آدمی کون ہے اور اس سے کیا چاہتا ہے؟ کہ وہ آدمی ہلکے سے مسکرایا اور بولا
“تمہیں بتایا تو تھا۔کہ میں ہیلر ہوں۔ کائنات کے شگاف مندل کرتا ہوں۔ ” زآرعون کا ہاتھ جیب کی طرف بڑھا جہاں اس نے احتیاطا آج اپنی گن چھپائی تھی۔ کہ اس آدمی نے کہا”فکر نہ کرو تمہیں اس گن کی ضرورت پیش نہیں آئے گی۔ آؤ میں تمہیں سب سمجھاتا ہوں” اس دفعہ تو زآرعون واقعی گڑبڑا گیا۔اجنبی کیسے جانتا تھا بھلا کہ اس کے پاس گن ہے ؟ اس آدمی نے بات جاری رکھتے ہوئےکہا
“یہ کائنات پرت در پرت اک راز ہے اور اس کائنات کا سب سے بڑا راز جانتے ہو کیا ہے؟ ” پھر جواب کا انتظار کیے بغیر ہی بولا۔ “سچ! اس کائنات کا سب سے بڑا راز سچ ہے۔ میرا سچ۔ تمہارا سچ۔ ۔ ہم سب کا سچ۔ ۔ ہر شے اور ہر چیز کا سچ۔ ۔ ۔ یہ کائنات انہیں سچائیوں سے مل کر بنی ہے۔ اور ہر سچ کی اپنی ہی اک سمت ہے اور اپنی ہی اک دنیا۔ ہزاروں سچ ایک جھرنے کی مانند ساتھ ساتھ بہتے ہیں۔لیکن تمہارا سچ وہی ہے جہاں تم موجود ہو ۔کسی کے ایک سچ میں جینے کا مطلب یہ ہے کہ اسکے لیے باقی سچ ساکت ہو جائیں گے۔ اس دنیا میں تاشی تمہیں چھوڑ کر جا چکی۔ مگر کسی اور دنیا میں وہ آج بھی تمہارے ساتھ رہتی ہے۔ اور اس سچ کو پانے کے لیے تمہیں یہ دنیا ساکت کرنی ہو گی۔ تبھی تم اس دنیا میں جا کر رہ پاؤ گے۔ جہاں تاشی اور تم آج بھی ایک ساتھ محبت بھری زندگی جی رہے ہو”
“یہ کیسے ممکن ہے بھلا؟”زآرعون حیرت اور تجسس میں ڈوبتا ہوا بولا تو اس آدمی نے جواب دیا۔
“ہر چیز کا ایک وقت ہے۔ ہر چیز اپنے مدار میں گھوم رہی ہے۔ وقت کا بھی اپنا ایک مدار ہے۔ لیکن کائنات میں جب بھی کوئی اتھل پتھل ہوتی ہے تو یہ وقت اپنے مدار سے ایک سکینڈ کے ہزارویں حصے سے پھسل جاتا یے۔ اور یہ حصے جمع ہوتے رہتے ہیں یہاں تک کہ ایک گھنٹہ جمع ہو جاتاہے۔ سچائی کی اس گھڑی میں تب ایک وقت کے لیے بارہ کے بعد تیرہ بجتے ہیں اور یہ تیرہ ہی دروازہ ہے سچائی میں سفر کرنے کا۔ ” اجنبی نے اپنی بات مکمل کی تو زآرعون جھٹ سے بولا”مگر میں ہی کیوں”؟
” کیونکہ یہاں تمہاری زندگی سچ نہیں جھوٹ ہے۔ تمہارے ہاتھ سے وقت پھسلا تو کائنات میں اک شگاف پڑ گیا۔اب تمہارے پاس ایک موقع آیا ہے اس دروازے کو پار کرنے کا۔ کیونکہ سچ تو یہ ہے کہ تاشی نے تمہیں تمہاری شراب نوشی کی کثرت سے تنگ آکر تمہیں چھوڑ دیا۔ نشے میں تم اس کے ساتھ کیا کرتے تھے تمہیں شاید یاد نہ ہو مگر وقت نے سب دیکھا۔ ۔ ۔ تمہارا ہوش جتنا محبت بھرا تھا تمہاری مدہوشی اتنی ہی اذیت ناک اور پر تشدد تھی اس کے لیے۔ اس لیے وہ تمہیں سمجھا سمجھا کر تھک گئی تو چھوڑ گئی۔لیکن تم اسے پھر سے دیکھ سکتے ہو۔،”
“کیا تم خدا ہو؟” زاردعون نے پوچھا۔
“نہیں۔خدا تو وہ ہے جو ہر جگہ موجود ہے۔میں تو بس تمہاری ایک سچائی کا ساتھی ہوں۔ خدا اس کائنات کا مالک ہے اور میں اس کائنات کی سچائیوں کا دروازہ۔وہ سامنے دیکھو گلی کے آخر میں اندھیرا اس میں سے گزر جاؤ۔ بظاہر اندھی گلی اس وقت دروازہ ہے دوسری دنیا کا۔ جاؤ کہ یہ تمہارے وقت کا تیرواں گھنٹا چل رہا ہے۔بس یاد رکھنا کہ وقت اپنے مدار میں گھوم کر واپس ضرور آتا ہے”
زآرعون لپک کر اس اندھیری سمت کی جانب مڑا۔جب اچانک اس کے کانوں میں اجنبی کی آخری آواز گونجی “وقت بہت بڑا مرہم ہے” گلی کی اندھیری سمت میں جا کر زآرعون دوسری طرف سے نکل آیا۔
۔۔۔ ۔۔۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔۔۔ ۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بظاہر سب کچھ ویسا ہی تھا۔ ۔ وہی جگہ وہی لوگ۔ ۔ وہی گلی۔ ۔ بس اُس دنیا کی وہ اندھی گلی واقعی دوسری طرف کھلتی تھی۔اور زآرعون اسی بات پر حیرت زدہ تھا۔ وہ سیدھا گھر واپس گیا ۔دروازہ بجایا تو حیرت کی انتہا نہ رہی کہ دروازہ تاشی نے ہی کھولا تھا۔ تاشی کچھ دیر تو اسے حیرت سے دیکھتی رہی پھر کچھ کہنے ہی لگی تھی کہ زآرعون نے اسکے منہ پر ہاتھ رکھ دیا “تاشی کچھ مت کہنا ۔میں تمہارا زآرعون۔ تمہاری خاطر میں ایک دنیا پار کر آیا ہوں۔تاکہ اس سچائی میں تمہارے ساتھ جی سکوں۔ ” اچانک پیچھے سے اسے آواز آئی۔ “تاشی حیرت سے کیا دیکھ رہی ہو دروازے پر۔ کون ہے وہاں”؟
معلوم نہیں۔ دروازہ کھولا تو کوئی بھی نہیں ہے۔ بس اچانک ہوا کا ایک ٹھنڈا سا جھونکا چہرے سے ٹکرایا تو جھرجھری سی آ گئی۔” تاشی کی اس بات پر حیرت سے اس نے دیکھا۔ ۔ تاشی کے پیچھے بھی وہی تو کھڑا تھا۔ ارے یہ کیا ؟ یہاں اسے کوئی دیکھ نہیں پا رہا تھا۔ اس نےسامنے سے دیکھا کہ پیچھے سے اسی نے آ کر تاشی کو بانہوں میں بھر لیا اور پیار سے بولا۔ ۔ “ارے میری تاشی! میں سمجھتا ہوں کہ میں تمہارا گنہگار ہوں۔مگر دیکھو میں نے خود کو بدل لیا ہے۔تمہارے ساتھ جو بھی زیادتیاں کی ہیں میں ان سب کا مداوا کروں گا۔ تمہارے سارے غم چن لوں گا۔ مگر مجھے موقع تو دو۔ میں جانتا ہوں کہ تم پوری طرح نہیں سنبھل پائیں ابھی مگر میں پوری کوشش کروں گا ۔مجھے تھوڑا وقت دو۔ وقت بہت بڑا مرہم یے۔ میں تمہارے سارے شگاف بھر دوں گا”تاشی اس کے گلے سے لگ گئی۔
وہ پیچھے ہٹ گیا اور تھکے تھکے قدموں سے واپس سڑک پر مڑ گیا۔اس بار اسے اپنی منزل معلوم تھی۔
۔ ۔ ۔ ۔۔۔ ۔۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
وہاں دوسری دنیا میں گلی میں بہت سے لوگ جمع تھے۔ سڑک پر ایک آدمی اوندھے منہ پڑا تھا۔ پولیس بھی جمع تھی اور ثبوت اکھٹے کیے جا رہے تھے۔ایک پولیس مین کے ہاتھ میں پلاسٹک کے ایک تھیلے میں خون آلود رومال تھا جس سے غالبا خون کی قے صاف کی گئی تھی ۔وجہِ موت کثرت سے شراب نوشی بتائی جا رہی تھی۔ کچھ لوگوں نے اسے آخری دفعہ سڑک پر خود سے باتیں کرتے ہوئے جاتے دیکھا تھا۔ لوگ باتیں کر رہے تھے تبھی ایک آدمی جو اسکا پڑوسی تھا بولا “ہم تو سمجھے تھے بچارہ سنبھل جائے گا۔ ٹائم از آ گریٹ ہیلر۔مگر بچارہ خود کو نہ سنبھال پایا اس غم سے اور مر گیا” پولیس نے اس آدمی کو سیدھا کیا تاکہ شناخت کی کاروائی مکمل ہو سکے۔ ۔ وہاں وہ اجنبی بے سدھ پڑا تھا۔